آذادی کا دن

آذادی کا دن

 ”چاچو جان!جشن آزادی مبارک ہو آپ کو جلدی سے اٹھ جائیں صبح ہو گئی ہے“ننھی مصفرا ہاتھ میں قومی پرچم پکڑے اپنے چاچو کے کمرے میں داخل ہوئی۔اوہ!بیٹا صبح ہو گئی مجھے پتہ ہی نہیں چلا۔ دراصل رات کو دیر تک چاچو جان سارے گھر اور گلی میں لائٹنگ کرتے رہے اس لئے دیر تک جاگتے رہے اور اب ننھی مصفرانے آکر اپنے پیارے چاچو کو جگایا۔اوہ!مصفرا تو آج بہت پیاری لگ رہی ہے اس لباس میں مصفرانے سبز اور سفید رنگوں سے بنی فراک پہنی ہوئی تھی اور پری لگ رہی تھی۔ اتنی دیر میں زوبی نے بھی دروازے سے منہ نکالا اور کہا ماموں جان جلدی سے فریش ہو جائیں میں آپ کا ناشتہ ریڈی کر رہی ہوں اور چائے کے لمبے لمبے گھونٹ بھرتی کچن کی طرف چل دی۔ صائم نے باہر صحن میں دیکھا تو بچوں کی گہما گہمی تھی ہر طرف شور شرابہ ہو رہا تھا۔ (جاری ہے) معاذ،انس اور حمر جھنڈیاں جوڑ جوڑ کر لائنیں بنا رہے تھے اور ”پاکستان زندہ باد“کے نعرے بھی لگا رہے تھے۔عنایہ اور مصفرا ہاتھوں میں قومی پرچم پکرے ملی نغمے گا رہی تھیں۔تعلیمی مراکز بند ہونے کی وجہ سے اس بار صائم نے بچوں کا پورا آزادی پروگرام گھر میں ہی ترتیب دیا تھا حالات جیسے بھی تھے بہر حال آزادی کا دن تو آخر منانا تھا اس لئے گھر میں ہی ایک چھوٹی سی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ صائم نے رات ہی صحن میں شامیانہ لگوا دیا تھا تاکہ دن کو بچے یہاں جشن آزادی کا دن پورے جوش و خروش سے منا سکیں۔ناشتہ کرنے کے بعد صائم نے اپنے کزنز کے ہمراہ لان میں اسٹیج بنایا اور باقی بچے سبز ہلالی جھنڈیوں کو جوڑ کر صحن سجاتے جا رہے تھے۔ ”ارے اس مصفرا کو روکو ساری جھنڈیاں خراب کر رہی ہے“۔معاذ نے چلاتے ہوئے کہا مصفرا اپنی دھن میں مگن عنایہ کے ساتھ صحن میں باگ دور کر رہی تھی اور بے دھیانی میں جھنڈیوں کی لائن پر چڑھ گئی کچھ جھنڈیاں اُس کے پاؤں تلے آکر پھٹ پڑیں۔ مصفرا کی ماما نے اس کو ڈانٹا”بُری بات بیٹا جھنڈیوں پر پاؤں نہیں رکھتے ان پر چاند تارے بنے ہوئے ہیں“۔ معاذ اور انس گوند سے جھنڈیاں دھاگوں پہ چپکا کر لائنیں بناتے جا رہے تھے اور عبدالرحمن،عمر اور نور لائنیں سیدھے کرکے رکھو تاکہ ایک دوسری سے الجھے نہ اور گوند جلدی خشک ہو جائے۔ لیٹی(گوند) کا بڑا پتیلا باجی اور زوبی نے صبح صبح یہ بچوں کو تیار کردیا تھا۔اب اس سے جتنی مرضی جھنڈیاں لگائیں۔بی بی جان اپنے کمرے میں قرآن پاک کی تلاوت کرکے اب تسبیح کر رہی تھیں اور ملک وقوم کی سلامتی کے لئے دعا کر رہی تھیں۔ تھوڑی دیر میں بچوں نے پورے گھر کو رنگ برنگی جھنڈیوں سے سجا دیا۔صحن میں کچھ کرسیاں لگا دیں پھر اس پر سارے بچے تیار ہو کر بیٹھ گئے اب پروگرام کا باقاعدہ آغاز کرتے ہیں۔صائم نے مائیک میں کہا سب سے پہلے تلاوت قرآن پاک کے لئے عمر کو اسٹیج پر بلایا پھر عمر نے بلند آواز میں تلاوت کی اور پھر باقاعدہ پروگرام کا آغاز ہو گیا۔ بچوں کی خوشی کی انتہا نہیں تھی گھروں میں رہ رہ کر بور ہو گئے تھے۔عید الاضحی گزرے کچھ دن ہوئے عید پر بھی زیادہ ہلا گلہ نہیں ہو سکا تھا تو صائم نے سوچا چلو 14اگست آرہی ہے بچوں کے لئے گھر میں چھوٹی سی تقریب کا بندوبست کرتا ہوں اور اب 14اگست کا مبارک دن آگیا۔ صائم نے فیملی کے چند لوگوں کو گھر میں اکٹھا کر لیا جن میں بچے بوڑھے جوان سب نے شمولیت اختیار کی۔عنایہ کی آنٹی مسرت نے اپنی پرانی دوست نسرین کو بھی اس کے بچوں سمیت انوائٹ کرایا وہ بھی چہرے پر مسکراہٹیں بکھیرے آناً فاناً پہنچ گئیں۔ بچے باری باری اسٹیج پر جاتے اور ملی نغموں اور تقاریر سے سب فیملی ممبرز کو محفوظ کر رہے تھے۔گھر کی بڑی خواتین نے کھانے پینے کا بھی اہتمام کر لیا۔قربانی کا ابھی گوشت پڑا تھا زوبی نے اس سے مزیدار پلاؤ تیار کرایا۔آپانسرین اور عرہاشم نے مل کر پکوڑے سموسے تل لیے عنایہ کے چھوٹے ماموں جمشید نے کافی مقدار میں کولڈ ڈرنک اور آم کی پیٹیاں لادیں۔ یوں ایک پُر کیف تقریب کا انتظام ہو گیا۔اب انس اسٹیج پر آکر تقریر کرنے لگا اور سب خاموشی سے سننے لگے۔ میرے ہم مکتب ساتھیو اور بزرگو اسلام علیکم! آج 14اگست ہے آزادی کا دن جس کے لئے نہ جانیں کتنی جانوں کے نذرانے پیش ہوئے تب ہمیں حاصل ہوا اپنا پیارا وطن پاکستان۔ اگست 1947ء میں برصغیر کے مسلمانوں کو آزادی نصیب ہوئی اور ایک علیحدہ وطن کا تحفہ نصیب ہوا۔آزادی کتنی بڑی نعمت ہے اس کا اندازہ لگانا ہو تو کشمیر اور فلسطین کو دیکھئے جہاں آزادی کی جدوجہد کرتے ہوئے کئی نسلیں ختم ہو چکی ہیں لیکن ان کی جدوجہد آج بھی جاری ہے ،وہ آج بھی آزادی کے لئے جانیں قربان کر رہے ہیں۔ غلامی سے بدتر کوئی چیز نہیں یہ انسانی فطرت کو اعلیٰ ترین اوصاف سے محروم کر دیتی ہے ان سے بصیرت چھین لیتی ہے ۔آزادی قدرت کی طرف سے بہت بڑا انعام ہے اس انعام کی قدر کریں اس وقت ہم جن حالات سے دو چار ہیں سب مل کر دعا کریں اپنے ملک کی خیرو سلامتی کے لئے ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس مشکل گھڑی سے آزادی دلائے اور حالات پھر سے ویسے ہو جائیں ۔تعلیمی مراکز کھل جائیں ہم سٹوڈنٹس کے لئے یہ بہت بڑا نقصان ہے۔اللہ تعالیٰ ہمارے ملک پاکستان کو سر سبز،خوشحال اور قائم دائم رکھے آمین۔آپ سب کو میری طرف سے جشن آزادی مبارک تالیوں سے پورا پنڈال گونج اٹھا اور انس اپنی سیٹ پر آکر بیٹھ گیا۔ بی بی جان بہت خوش ہوئیں انہوں نے اس تقریب کو بہت سراہا اور سب کو داد دی کہ انہوں نے ایسا خوبصورت پروگرام گھر میں ترتیب دیا جس میں بچوں کا جوش و ولولہ عروج پر تھا پر زوبی آپا مسرت اور آپا نسرین نے فریشمنٹ کا سارا سامان سرو کیا اور یوں یہ خوبصورت تقریب اختتام پذیر ہوئی اور سب بچے خوشی خوشی اپنے اپنے گھروں کو چل دئیے۔پاکستان زندہ باد

What's Your Reaction?

like
0
dislike
0
love
0
funny
0
angry
0
sad
0
wow
0