اجرک کے سوٹس کی ہر طرف دھوم - خواتین کے ملبوسات

اجرک کے سوٹس کی ہر طرف دھوم - خواتین کے ملبوسات

وادی سندھ میں زمانہ قدیم سے آج تک ایسی کارآمد اشیاء تیار ہوتی رہی ہیں،جو نہ صرف قدیم دور میں انتہائی اہمیت کی حامل تھیں۔بلکہ آج کے جدید اور صنعتی دور میں بھی ان کی اہمیت و افادیت،خوبصورتی اور دلکشی میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی ہے۔اس بات میں کوئی دورائے نہیں ہو سکتی کہ سندھ کے باسی انتہائی ہنر مند ہیں،ان کے ہاتھ سے بنائی ہوئی چیزیں نہ صرف اقوام عالم میں مشہور ہیں بلکہ ان کی مانگ میں بھی دن بہ دن اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

اجرک سندھی ثقافت کا سنگھار ہیں۔سندھی ٹوپی اور اجرک سندھ ثقافت کی ایک خوبصورت پہچان ہے جو کہ اب پوری دنیا میں مقبول ہے یہی وجہ ہے کہ آجکل ہر طرف سندھ کپڑوں کی دھوم مچی ہوئی ہے ہر طرف لڑکیاں بالیاں اجرک کے کرتے اور سفید نائٹس اور ٹراؤزر پہنے بڑی شان سے پہنتی نظر آتی ہیں دراصل سندھ کے صحراؤں میں پھل پھول اور سبزے کے رنگوں کی کمی تھی لیکن یہاں کے باسیوں نے اس کمی کو اس طرح پورا کیا کہ دھنک کے سارے ہی رنگ اپنی اجرکوں پر بکھیر دیے۔


اجرک کے سوٹ پہلے تو سندھی لوگ ہی زیب تن کرتے نظر آتے تھے لیکن جب سے یہ سوٹ فیشن میں ان ہوئے ہیں،خواتین انھیں بڑے شوق سے پہن رہی ہیں۔کیونکہ سلنے کے بعد یہ سوٹ بے حد خوبصورت نظر آتے ہیں۔اس کے علاوہ خواتین کو اپنے کپڑوں کیلئے ایک منفرد سٹائل مل جاتا ہے جو دیکھنے میں بڑا دلکش محسوس ہوتا ہے۔آج سے قبل تو اجرک کی چادریں ہی زیادہ مشہور تھیں لیکن اب اجرک کے سوٹ، ساڑھیاں اور بیڈ شیٹیں وسیع رینج میں بازار میں موجود ہیں۔

اسی طرح کڑھائی میں”سندھی ٹانکا“انتہائی مشہور و معروف ہے،جو ہر قسم کے کپڑوں پر کڑھائی کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔اس میں شک نہیں کہ سندھ ثقافت کے حوالے سے کونا کونیت کا مالک ہے۔لباس سے لے کر اوڑھنے بچھونے تک اس خطے کے ہزاروں رنگ ہیں جو دل کو ہمیشہ نبھاتے رہتے ہیں۔
سندھی ثقافت کے اہم حصہ اجرک کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ موئن جو دڑو سے ملنے والے پروہت کی زیب تن کی ہوئی چادر بھی اجرک کی ہی ایک قسم ہے،اس حساب سے ایک اندازہ یہ بھی ہے کہ اجرک موئن جو دڑو کے دور میں بھی استعمال کی جاتی تھی اور اس کا ڈیزائن آج کے دور میں تیار کی جانی والی”ککر والی اجر“ سے ملتا جلتا ہے۔

ایک روایت کے مطابق موئن جو ڈرو کے پروہت روز صبح نہانے کے بعد ایک قسم کی چادر اوڑھا کرتے تھے۔ایک روز انہیں اجرک پہننے کو ملی جو کہ انہیں بے حد اچھی لگی،بس پھر تب سے وہ اجرک استعمال کرنے لگے۔یہ ایک قسم کی رنگین اور نقوش والی چادر ہے،جسے سندھ میں کاندھوں پر اور پگڑی باندھنے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے جس میں انڈیگو رنگ (نیل)نمایاں ہوتاہے۔

اب اجرک والے کپڑے بھی تیار کیے جاتے ہیں،جوکہ اب عام استعمال میں آچکے ہیں۔
ان کپڑوں کے الگ الگ نقش و نگار ہوتے ہیں اور بہت سی اقسام بھی ہیں۔یہ جدت آنے والے وقتوں میں ایک نئے رنگ کے ساتھ سندھ کا تعارف بن جائے گی۔صوبہ سندھ کی پہچان اور روایت اجرک تمام پاکستانیوں کے لئے باعث فخر تو ہے ہی لیکن اب اس کی دھوم دنیا بھر میں مچ گئی ہے کیونکہ پچھلے سال امریکہ میں ایک فیشن ہاؤس نے اجرک کا ڈیزائن کاپی کرکے اسے ایک لباس کے طور پر متعارف کروایا تھا جس کے بعد سے اینک ہر طرف اجرک کے سوٹوں کی دھوم مچی ہوئی ہے۔

واضح رہے کہ ’اجرک‘ کو سندھ کی ثقافت کا سب سے اہم اور لازمی جز سمجھا جاتا ہے،سندھی افراد اجرک کے کپڑے سے لباس تیار کرنے سمیت اسے مہمانوں کو تحفے کے طور پر بھی پیش کرتے ہیں۔اسی طرح ’اجرک‘ کو خواتین دوپٹے کے طور پر بھی استعمال کرتی ہیں جب کہ مرد اسے پگڑی کے طور پر پہننے کے علاوہ اسے گردن کے گرد سجا کے رکھتے ہیں۔

What's Your Reaction?

like
0
dislike
0
love
0
funny
0
angry
0
sad
0
wow
0