اس قدیم مٹکی سے 55 لوگوں پر خطرناک جادو کیا گیا تھا

ایتھنز: یونانی دارالحکومت ایتھنز میں اگورا نامی قدیم علاقے سے ملنے والی 2300 سال قدیم مٹکی کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ اسے کم از کم 55 لوگوں پر خطرناک اور جان لیوا جادو کرنے میں استعمال کیا گیا تھا۔

اس قدیم مٹکی سے 55 لوگوں پر خطرناک جادو کیا گیا تھا

300 قبلِ مسیح کے زمانے سے تعلق رکھنے والی اس مٹکی میں سے مرغیوں اور چوزوں کی درجنوں ٹوٹی ہوئی ہڈیاں اور لوہے کی کیلیں برآمد ہوئی ہیں جبکہ اس کی بیرونی سطح کو کسی نوکیلی چیز سے کھرچ کر قدیم ایتھنز شہر کے 55 باشندوں کے نام لکھے گئے ہیں۔

واضح رہے کہ قدیم یورپ میں بھی دشمنوں کو برباد کرنے اور موت کے گھاٹ اتارنے کےلیے جادو ٹونے کا رواج عام تھا، البتہ قانونی طور پر اس کی اجازت نہیں تھی۔

یہ مٹکی 2006 میں ماہرینِ آثارِ قدیمہ کی ایک ٹیم نے ’’اگورا‘‘ کے علاقے سے دریافت کی تھی جو قدیم یونانی باقیات کے حوالے سے مشہور ہے۔

یہ مٹکی کئی سال تک یونان کے سرکاری عجائب گھر میں محفوظ رہی جس پر ییل یونیورسٹی، امریکا کی ماہرِ آثارِ قدیمہ جیسیکا لیمونٹ نے چند سال قبل دوبارہ تحقیق شروع کی۔

انہوں نے مٹکی میں موجود چیزوں اور مٹکی کی اندرونی و بیرونی سطح پر موجود نشانات کا باریک بینی سے جائزہ لیا اور بتایا کہ مٹکی میں مرغیوں کی زیادہ تر ہڈیاں چھوٹی ہیں۔

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ غالباً ’’مؤثر جادو‘‘ کےلیے کم عمر والی مرغیوں اور چوزوں کو مارنے کے بعد ان کی گردن اور ٹانگوں کی نچلی ہڈیاں توڑ کر اس مٹکی میں ڈال دی جاتی تھیں۔

مٹکی پر تحریر اگرچہ دھندلی پڑچکی ہے لیکن پھر بھی اس میں 55 مختلف نام پڑھے جاسکتے ہیں جبکہ اندازِ تحریر سے پتا چلتا ہے کہ دو الگ الگ افراد نے مٹکی پر یہ نام لکھے تھے۔ یعنی وہ کوئی دو جادوگر تھے۔

بظاہر اس جادو کا مقصد ان لوگوں کو معذور اور ہلاک کرنا تھا جو غالباً کسی مقدمے میں جادو کروانے والوں کے مخالف تھے اور ایتھنز شہر میں ہی رہتے تھے۔

ریسرچ جرنل ’’ہیسپیریا‘‘ کے تازہ شمارے میں شائع ہونے والی اس تحقیق سے پتا چلتا ہے کہ قدیم زمانے کا یورپ صرف وہم پرست ہی نہیں تھا بلکہ وہاں بھی کم و بیش ویسا ہی جادو ٹونا رائج تھا جیسا آج مشرقی ممالک میں عام ہے۔

What's Your Reaction?

like
0
dislike
0
love
0
funny
0
angry
0
sad
0
wow
0