اصل جیت کس کی ھوتی ھے۔۔

اصل جیت کس کی ھوتی ھے۔۔
اڑتالیس سالہ کشمالہ طارق کی شادی کو لے کر ٹرولرز کافی سرگرم ہیں کے اصل جیت تو پیسے کی ہوتی ہے۔ میرے خیال میں شادی کی اصل عمر جب تک ہی ہوتی ہے جب تک آپ خود جوشیلے ہوتے ہیں اور کچھ کر گزرنے کا دل ہوتا ہے، جب آپ اپنے جیون ساتھی کہ لیئے قربان ہوں، جب آپ میں برداشت کرنے کی صلاحیت موجود ہو۔ جس عمر کہ حصے میں آپ کو ٹانگیں قبر میں جاتی نظر آئیں، ہڈیاں جواب دے رہی ہو اور طبیعت میں چڑچڑا پن اور غصہ بڑھ جائے تو اس وقت میں اس خوبصورت رشتہ کا مزہ نہیں اٹھایا جا سکتا۔ سوائے اس کہ کے اللہ کا حکم پورا ہوجاتا ہے۔ جیت اور خوشی دلی کیفیت کا نام ہے۔
ہماری نوجوان نسل اور ہمارے بزرگوں کو بھی سمجھ لینا چاہیے کہ جس نظام کو ہم آئڈیل بنائے بیٹھے ہیں یہ تباہی کا سبب ہے۔ روٹی، کپڑا اور مکان کے بعد آپ کی سب سے بڑی ضرورت نکاح ہے۔ نکاح عام اور آسان کرنے سے ہم بہت سارے مسائل سے چھٹکارا حاصل کر سکتے ہیں۔ ذیادتی، بدفعلی اور ہراساں کے واقعات کم ہو سکتے ہیں۔ فحاشی اور عریانی کو کم کیا جا سکتا ہے۔ خاندانی نظام آسان نکاح سے بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ جہیز کے بوجھ سے ہم جان چھڑا سکتے ہیں۔ اسٹیبل تو انسان اپنے آپ کو کبھی نہیں سمجھتا۔
ہمیں اپنے تعلیمی نظام کو بھی بدلنے کی ضرورت ہے کیونکہ اس تعلیمی نظام کے ساتھ بھی آپ کو کم از کم ستائش اٹھائس سال انتظار کرنا پڑتا ہے۔ بچہ اٹھارا سال تک کمانے کے قابل ہو جانا چاہیے۔

What's Your Reaction?

like
0
dislike
0
love
0
funny
1
angry
0
sad
0
wow
0