حکومت کی گاڑی کیوں نہیں چل رہی؟

بھارتی نژاد امریکی فرید زکریا کا شمار امریکا کےچوٹی کے تجزیہ کاروں میں ہوتا ہے۔ سی این این پر جی پی ایس کے نام سے ایسا پروگرام پیش کرتے ہیں جو امریکا میں سب سے زیادہ اثر ڈالنے والے پروگراموں میں شمار ہوتا ہے۔ واشنگٹن پوسٹ میں ان کا ہفتہ وار کالم بھی شائع ہوتا ہے۔

حکومت کی گاڑی کیوں نہیں چل رہی؟

سلیم صافی۔

کئی اہم موضوعات پر پہلے بھی ان کی کتابیں مارکیٹ میں موجود ہیں اور ان کی تازہ ترین کتاب ”کورونا کے بعد کی دنیا کے لیے دس اسباق“ (Ten Lessons for a Post-Pandemic World)کے نام سے شائع ہوئی ہے۔ اس کتاب کو پاکستان کے پالیسی سازوں کو ضرور پڑھنا چاہئے کیونکہ اس میں

بڑی عرق ریزی کے ساتھ کورونا کے دنیا پر اثرات اور مستقبل میں ابھرنے والے نئے چیلنجز اور رجحانات کا جائزہ لیا گیا ہے۔ دس اسباق کا تو ایک کالم میں احاطہ نہیں ہوسکتا لیکن آج کے کالم میں دوسرے اور تیسرے سبق کا تذکرہ ضروری سمجھتا ہوں۔

فرید زکریا لکھتے ہیں کہ کورونا کی وبا اور اس کے اثرات کا دوسرا سبق یہ ہے کہ حکومت کی مقدار یا سائز نہیں بلکہ کوالٹی اہم ہے۔ اس کی تفصیل انہوں نے یہ دی ہے کہ جان ہاپکنز یونیورسٹی نے ہیلتھ سیکورٹی انڈیکس میں 2019کے دوران امریکا کو نمبرون پر رکھا تھا لیکن جولائی 2020تک کورونا کے سب سے زیادہ کیسز اسی امریکا میں رپورٹ ہوئے تھے اور ہلاکتیں بھی سب سے زیادہ یہیں پر ہوئیں۔

اس کی وجوہات انہوں نے نامناسب ٹیسٹنگ کٹس، ماسک پہننے پر زور نہ دینا، بڑے پیمانے پر ٹیسٹنگ کا نہ ہونا اور موثر لاک ڈائون نہ کرنا بتایا ہے۔وہ یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ امریکا جیسی سپرپاور کہ جہاں صحت کی سہولتیں دنیا کے کسی بھی ملک سے زیادہ تھیں، کیوں کورونا کا مقابلہ کرنے میں ناکام رہا اور پھر جواب میں جو وجوہات سامنے لاتے ہیں، ان میں وفاق، ریاستوں اور لوکل سطح پر الگ الگ قوانین، سرکاری افسران کے پاس صوابدیدی اختیارات کا نہ ہونا(جس کی وجہ سے وہ بروقت فیصلہ نہیں کرسکے)، کانگریس کی طرف سے صحت کے اداروں کی مائیکرومینجمنٹ، سرخ فیتہ اور ویٹوکریسی (یعنی غیرضروری چیک اینڈ بیلنس) بتایا ہے۔

آگے جاکر انہوں نے مزید وضاحت کی کہ امریکا کے مقابلے میں کئی دیگر ممالک نے کورونا کو بہتر انداز میں قابو کیا اور ایسا نہیں کہ صرف ان ممالک نے قابو کیا کہ جو چھوٹے تھے اور جہاں ڈکٹیٹرشپ تھی بلکہ بعض جمہوری ممالک مثلاً جرمنی، آسٹریا، ڈنمارک، فن لینڈاور آسٹریلیا جیسے بڑے ممالک نے بھی خوش اسلوبی سے کورونا کا مقابلہ کیا۔ ان ممالک میں چار چیزیں مشترک تھیں۔

ایک محدود اختیارات لیکن مختلف اداروں کے اختیارات کا واضح تعین۔ دوسرا سرکاری اہلکاروں کے پاس خودمختاری تاکہ وہ فوری طور پر حالات کے مطابق اپنا ذہن استعمال کرسکیں۔ تیسرا مخلص اور باصلاحیت لوگوں کے ہاتھ میں معاملات کا ہونا اور چوتھا غلطیوں اور کامیاب ماڈلز سے سیکھنا۔

فرید زکریا نے مزید لکھا ہے کہ عشروں سے دنیا کے ممالک کے لیے ضروری تھا کہ وہ امریکا سے سیکھ لیں لیکن اب امریکا کو دنیا (ڈنمارک وغیرہ) سے سیکھنا ہوگا۔

اب امریکا کے بارے میں فرید زکریا کے اس تجزیے کے تناظر میں پاکستان کو دیکھ لیجئے تو صورت حال بڑی تشویشناک نظر آتی ہے۔ اگر امریکا جیسا سپر پاور اپنے نظام میں ان چند خامیوں کی وجہ سے بحرانوں یا قدرتی آفات کا مقابلہ نہیں کرسکتا تو پاکستان جیسا قرضوں میں جکڑا ہوا غریب ملک کیسے کرسکتا ہے جہاں یہ سب خامیاں بدرجہ اتم موجود ہیں۔

امریکی حکومت کی ناکامی کی بڑی وجہ انہوں نے یہ بتائی ہے کہ مرکز، ریاستوں اور مقامی حکومتوں میں ہم آہنگی نہیں تھی اور طاقت کے کئی مراکز موجود تھے۔ اب ان دنوں پاکستان میں طاقت کئی مراکز میں تقسیم ہے اور پتہ نہیں چل رہا کہ کس ناکامی کا ذمہ دار کون ہے؟

وہاں تو ریاستوں، وفاق اور لوکل گورنمنٹ میں الگ الگ قوانین نے مسئلہ بنا دیا لیکن پاکستان میں تو سرے سے قانون پر عمل ہی نہیں ہورہا۔

دوسری وجہ انہوں نے کانگریس کی طرف سے مائیکرو مینجمنٹ بتائی ہے لیکن ہمارے ہاں تو ان دنوں ہر صوبے میں ہر شعبے کی مرکزی اداروں کی طرف سے مائیکرو مینجمنٹ کا عمل زوروں پر ہے۔ تیسری وجہ انہوں نے سرخ فیتے کا کلچر بیان کی لیکن ہم جانتے ہیں کہ امریکا کی نسبت پاکستان میں سرخ فیتے کا مسئلہ ہزار گنا زیادہ ہے۔

چوتھی وجہ انہوں نے ویٹو کریسی بتائی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ کچھ افراد یا کسی ادارے کے پاس اتنی طاقت ہو کہ وہ کسی بھی فیصلے یا اقدام کو ویٹو کرسکے۔

یہ عمل ان دنوں پاکستان میں اپنے عروج پر ہے۔ بعض افراد اور اداروں کو یہ حیثیت حاصل ہوگئی ہے کہ وہ کسی بھی فیصلے یا اقدام کو اپنی خواہش یا ضرورت کے مطابق ویٹوکرسکتے ہیں۔ تیسرے سبق میں انہوں نے امریکا کی ناکامی کی جو وجہ بتائی تھی وہ بھی پاکستان میں ان دنوں عروج پر ہے۔ یعنی یہ کہ امریکی حکومت اپنے عوام سے جو ٹیکس جمع کرتی ہے، وہ ڈنمارک کی حکومت کی طرح اسے واپس لوٹاتی نہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ ڈنمارک کی شرح سے نہیں لیکن پاکستان کے مقابلے میں امریکا کے اندر ٹیکس عوام کو لوٹانے کی شرح بہت زیادہ ہے۔

اب اگر امریکا جیسے ملک کے لیے وہ شرح مصیبت بن سکتی ہے تو پاکستان میں تو عوام سے ٹیکس بہت زیادہ لیاجاتا ہے لیکن اس کا چند فی صد بھی واپس ان کی فلاح پر خرچ نہیں کیا جاتا۔

یہاں تو المیہ یہ ہے کہ امیر اور غریب سے یکساں ٹیکس لیا جاتا ہے، ڈائریکٹ اور ان ڈائریکٹ ٹیکسوں کی شرح دیکھی جائے تو شاید ڈنمارک سے بھی زیادہ ہے۔ اسی طرح انہوں نے کامیاب ممالک کے نظام میںجو چار مشترکات(محدود اختیارات لیکن ہر ادارے کے اختیارات کا واضح تعین، بیوروکریسی کی خودمختاری، فیصلہ سازی مخلص اور باصلاحیت لوگوں کے ہاتھ میں ہونا اور غلطیوں سے سیکھنا) بتائی ہیں، وہ اس وقت پاکستان میں عنقا ہیں۔

یہاں بعض اداروں اور افراد کے پاس غیرمعمولی اختیار اور طاقت ہے جبکہ اختیارات کا واضح تعین نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس وقت پاکستان کا حکومتی نظام بالکل جام نظر آرہا ہے۔ حکومتی ترجمانوں کی زبانیں چل رہی ہیں لیکن حکومت چلتی ہوئی نظر نہیں آرہی۔

اس حکومت کی گاڑی کو ہر طرف سے دھکے بھی لگائے گئے لیکن یہ پھر بھی چلنے کا نام نہیں لے رہی۔ حالانکہ دھکوں اور سہاروں کی بجائے اصل ضرورت مذکورہ بالا خامیوں پر قابوپانے کی ہے۔ مرضی ہے، مرضی کرنے والوں کی لیکن انہیں یاد رکھنا چاہئے کہ ان خامیوں کے ساتھ اگر امریکا جیسی سپر پاور ایک وبا کے سامنے ناکام ثابت ہوتی ہے تو پاکستان جو ہر طرف سے بحرانوں کی زد میں ہے، کے لیے ان خامیوں کے ساتھ زیادہ دیر چلنا ممکن نہیں رہے گا۔

What's Your Reaction?

like
0
dislike
0
love
0
funny
0
angry
0
sad
0
wow
0