دل کو بیماریوں سے محفوظ رکھیں

اصطلاح میں کسی شئے کی حیات کے مرکز کو قلب کہتے ہیں ۔

دل کو بیماریوں سے محفوظ رکھیں

انسانی جسم میں دو ’ازن ‘اور دو ’بطون ‘ پر مشتمل ، انسانی مٹھی جتنی جسامت میں پایا جاتا ہے، شکل صنوبری ہے۔ بائیں جانب زیادہ حصہ اور دائیں جانب ’اذن‘ کا کچھ حصہ پایا جاتا ہے۔ دائیں جانب دخانی خون اور بائیں جانب پھیپھڑوں سے صاف شدہ خون بائیں اذن میں پہنچتا ہے۔ اس کے علاوہ دل میں کچھ آخذ خلیات (ریسیپٹرز) موجود ہیں جنہیں (بیٹا۔ون) کہا جاتا ہے۔ یہ آخذ خلیے دل کی سکڑنے کی کیفیت بڑھاتے ہیں ، انہی کے چُست (ایکٹیو) ہونے سے دل پر فشار الدم (بلڈ پریشر) بڑھتا ہے۔

دل میں موجود ایک خاص نقطہ (سائینوایٹریل نوڈ) اذن کے آخر میں موجود نصف چاند نما والوز کے کھولنے اور بند ہونے کے ذمّہ دار ہیں۔ان سب امور کی وجہ سے دل انسانی جسم کے تمام اعضاء کو خون کے بہم پہنچانے کی بنا پر سب سے اہم عضو ہے۔

دل کی بیماریاں

(1)۔ خون کی نالیوں کی وجہ سے دل کی علالت: جن اشخاص کا مزاج ایسا ہوتا ہے کہ چربی زیادہ جمع ہوجاتی ہے، ان کے شریانوں کے اندر چربی کی تہہ جم جاتی ہے۔ جس سے دل کو خون دھکیلنے کے لیے زور لگانا پڑتا ہے،اس کیفیت کے دوران بلڈپریشر بڑھ جاتا ہے، اور اگر دھیان نہ دیا جائے تو دل کی حرکت بند ہوسکتی ہے، مردوں میں سینے کا درد ہوجاتا ہے مگرخواتین اس حالت میں سینے میں بے چینی ، تنگی تنفس، شدید تھکاوٹ اور متلی محسوس کرنے کے علاوہ خدر (سن ہونا)، کمزوری، ہاتھ پائوں کی ٹھنڈک، گلے، گردن اور جبڑوں میں درد محسوس کرتی ہیں۔

(2)۔ دھڑکن کے توازن کی خرابی: اس کیفیت کی وجہ ریح ، پریشانیاں،کم سونا، استحالہ ( میٹابولزم) کی خرابی ہیں۔اس حالت میں انسان یا تو دل کی دھڑکن میں کمی یا زیادتی محسوس کرتا ہے، اور چکّر ، تنفس میں خرابی، سر کا بھاری ہونا، سینے میں بے چینی محسوس کرتا ہے۔

(3)۔ دل کی اپنی خرابی (سودِالمزاج قلب): کچھ کا پیدائشی دل کمزور ہوتاہے اور کچھ لوگوںکا بعد میںکسی وجہ سے خراب ہوتا ہے، اس کیفیت کی علامت میں جلدکا رنگ متغیر ہو جاتا ہے۔ گاہے جلد نیلی ہوجاتی ہے۔ٹانگوں یا آنکھ کے گردحلقے سوجھ جاتے ہیں، بچوں میں اگر دل میں خرابی ہوتو سانس میں تنگی اور وزن بڑھ جاتا ہے۔

(4)۔ دل کے عضلات کی خرابی: اس مرض میں آدمی کام کرتے یا آرام کی حالت میں سانس رکتی محسوس کرتا ہے، ٹانگیں، گھٹنے اور پیر سوچھ جاتے ہیں، تھکاوٹ ، دھڑکن میں خرابی،سر کا بھاری ہونا اس حالت کی علامت ہیں۔

(5)۔ دل کے عضلات میں جراثیم کا دخول:  یہ جرثومے دل کے اندرونی حصے، دل کی کیواڑیوں کو اذیت دیتے ہیں، اس کی علامت میں بخار ، تنفس کی خرابی ، تھکاوٹ، ٹانگوں کی سوجھن، دل کی آواز میں تبدیلی،خشک اور لگاتار کھانسی،جلد پر خاراش شامل ہیں۔

(6)۔ دل کی کیواڑیوں کی خرابی: دل کی چار کیواڑیاں ہیں ۔بہت سے امور ان کے خرابی کا سبب بنتے ہیں، جن کی وجہ سے کیواڑیاں پتلی ہوجاتی ہیں،گاہے ان کے درمیان سے خون بہہ نکلتا ہے اور کبھی یہ کیواڑیاں پورا بند نہیں ہو پاتیں۔ اس کے لیے سب سے پہلے یہ معلوم کرلینا چاہیے کہ کون سی کیواڑی میں ذرا خرابی ہے۔ عمومی طور پر پائوں ؍گھٹنوں کا سوجنا،دھڑکن میں لاعتدالی، سینے میں درد، بلڈ پریشر کی خرابی اس مرض کی علامات ہیں۔

دل کے عوارض سے کیسے بچ سکتے ہیں؟

سب سے پہلے دل کے ضرر کا باعث ایسے غم ہیں جن کا حل ہونا بظاہر ناممکن ہو۔ پریشانی یا ایسے عوارض جن کی وجہ سے نیند میں بے چینی رہے اور نیند پوری نہ ہوسکے، معدے کی مسلسل خرابی، موٹاپا ، شوگر ، گردے کی کمزوری، خون کی کمی، آکسیجن کی کمی، غذا میں بے اعتدالی دل کو خراب کرتی ہیں۔

دل نازک عضو ہونے کی وجہ سے برے اثرات سے جلد متاثر ہوتا ہے۔ خوراک میںتوازن رکھنا ، گہری سوچ فکر کو اپنے پر لازم نہ آنے دینا ایسے مسسقل امور ہیں کہ ان پر عمل کرنا مشکل ضرور ہیں مگر دل کو صحت مند رکھنے کے لیے ضروری ہیں۔ مچھلی کا استعمال کریں اور چائے، کافی اور ریح پیدا کرنے والی اشیاء سے پرہیز کریں۔

کیا دواء دل کامکمل علاج کرتی ہے؟

دل دراصل خود ہی ٹھیک ہوتا ہے، ادویہ کے ذریعے دل کے آخذ خلیات کو پست کیا جاتا ہے تاکہ زور نہ پڑے، مگر ضروری ہے کہ غم یا پریشانی دور کرنے کی دواء بھی مہیاکی جائے تاکہ ’اسٹریس ہارمون‘  کم سے کم خارج ہوں ۔ یہ ہارمون دل کے عضلات کے لیے مضر ہیں۔ طب کی ادویہ دل کے عضلات کو مستحکم کرتی ہیں مگر خامرات کے افراز کو کم نہیں کرتیں، اس لیے فائدہ کافی دیر سے محسوس ہوتا ہے۔ دل کو سکون سے دھڑکنے کے لیے نیند کی بہت اہمیت ہے۔

دیکھا گیا ہے کہ کم سونے والے کم سنی میں ہی دل کی بیماریوں میں مبتلا ہوجاتے ہیں، علاوہ ازیں ایسے ہی اشخاص کو گھبراہٹ (خفقان) لاحق ہوتا ہے، یوگا ورزش دل کے لیے بہت مفید ثابت ہوتی ہیں۔

دل کے لیے خاص نسخہ

طبی: ہلدی ایک چوتھائی حصہ، لہسن چوتھائی حصہ، ادرک آدھا حصہ، برہمی بوٹی ایک حصہ، اسگندھ ایک حصہ، طباشیرایک حصہ، دارچینی ایک عدد، فرنج مشک ایک حصہ، فلفل سیاہ سفوف ایک بٹا آٹھ حصہ، زاعفران ایک بٹا آٹھ، گوگل ایک چوتھائی حصہ ان اشیاء کا سفوف نہار منہ پانی کے ساتھ یا تنہا لیں۔ کھانے کے بعد لینے سے افادیت میں کمی آجاتی ہے۔

ایلوپیتھی: ’کوانزائم کیو۔ 10‘ ایک اعدد صبح ایک عدد شام لیں۔

What's Your Reaction?

like
0
dislike
0
love
0
funny
0
angry
0
sad
0
wow
0