زیادتی کے بعد قتل؛ مسجد کی چھت پر پڑی بچے کی نعش نے انسانیت کو شرما دیا

سکھر: انسان اپنے مرتبے سے گر کر جب بھیڑیا بن جائے تو اس سے کچھ بھی بعید نہیں، ہمارے معاشرے میں انسانی لبادے میں چھپے بھیڑیے بچوں کو اپنی جنسی ہوس کا نشانہ بناکر انہیں موت کی ابدی نیند سلارہے ہیں اور بطور معاشرہ ہم غفلت کی نیند سوئے ہوئے ہیں۔

زیادتی کے بعد قتل؛ مسجد کی چھت پر پڑی بچے کی نعش نے انسانیت کو شرما دیا

معصوم بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے بڑھتے ہوئے واقعات اس بات کی نشاندہی کررہے ہیں کہ متعلقہ ادارے بچوں سے جنسی زیادتی کے واقعات کی روک تھام میں سنجیدہ نہیں، کیوں کہ کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جب کسی شہر سے یہ خبر سامنے نہیں آتی ہو کہ فلاں جگہ فلاں شخص نے معصوم بچے یا بچی کو اپنی ہوس کا نشانہ بنا ڈالا۔

ایسا ہی ایک شرم ناک واقعہ سکھر کے نواحی علاقے پنوعاقل میں پیش آیا، جہاں درندہ صفت وحشی ملزمان نے 12سالہ بچے کو اپنی ہوس کا نشانہ بنایا اور پھر انتہائی بے رحمی سے قتل کرکے اس کی نعش مسجد کی چھت پر پھینک دی۔ شیطانی منصوبے میں بظاہر کامیابی حاصل کرنے کے بعد ملزمان باآسانی فرار ہوگئے۔ اطلاع پر پولیس نے پہنچ کر مسجد کی چھت سے بچے کی نعش تحویل میں لی اور ضروری کارروائی کے بعد ورثاء کے حوالے کردی۔

ایس ایس پی سکھر عرفان علی سموں کے مطابق پولیس کو اطلاع ملی تھی کہ پنوعاقل کے علاقے میں واقع ایک مسجد کی چھت پر لڑکے کی نعش موجود ہے، جس پر پولیس نے وہاں پہنچ کر نعش تحویل میں لی، ابتدائی تفتیش میں یہ بات سامنے آئی کہ بچے کو جنسی ہوس کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کیا گیا ہے، پولیس نے نعش کے اجزاء لے کر تصدیق کے لئے لیبارٹری ارسال کر دیے جبکہ واقعہ کی صاف و شفاف تحقیقات اور ملزمان کی فوری گرفتاری کے لئے ایک ٹیم تشکیل دی گئی، جس نے مختصر وقت میں کارروائی کرتے ہوئے ملزمان تک پہنچ کر انہیں گرفتار کیا۔ ابتدائی تفتیش میں ملزمان نے اپنے جرم کا اعتراف کرلیا ہے، پولیس کی جانب سے واقعہ کا مقدمہ درج کرکے مزید تفتیش کی جارہی ہے۔

شرمناک واقعہ کے ملزمان کو پولیس نے گرفتار تو کرلیا لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ معاشرے میں اس طرح کے واقعات کیوں بڑھ رہے ہیں۔ ہمارے ہاں جتنے بھی حیوان ہیں، ان سے بڑھ کرانسانوں کے روپ میں جوجنسی درندے گھوم رہے ہیں وہ زیادہ خطرناک ہیں۔  وطن عزیز میں روز بروز ایسے ایسے خوفناک حقائق و واقعات سامنے آتے ہیں جن کو شیطانیت و درندگی کے کھلے مظاہرے کے سوا کچھ نہیں کہا جا سکتا۔

زیادہ تشویش ناک بات یہ ہے کہ ہوس کے پجاریوں نے معصوم بچوں کو بھی نہ چھوڑا۔ بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے ایسے ایسے دل دہلا دینے والے سانحات رونما ہوتے ہیں، جن کو لکھتے ہوئے قلم بھی تھرتھرا اٹھتا ہے۔

بچے تومعصوم ہوتے ہیں میں ان کے بارے میں لفظ لکھتے میرے ہاتھ کانپ رہے ہیں مگروہ کیسے حیوان ہیں جو ان معصوم بچوں کو حوس کانشانہ بنا ڈالتے ہیں۔ اس سلسلے میں چائلڈ پروٹیکشن کے ماہرین کہتے ہیں کہ والدین کو چاہیے کہ اپنے بچوں کو اس حوالے سے مکمل اعتماد میں لیں کہ وہ دن میں کسی بھی اجنبی سے ملیں تو اس کا ذکر کھل کر آپ سے کریں۔ انہیں پیار سے سمجھائیں کہ کوئی بھی اجنبی شخص آپ سے آپ کا نام، امی ابّو کا نام یا گھر کا پتہ پوچھیں تو ہرگز انہیں نہ بتائیں۔ ان کے روزانہ کے معمولاتِ زندگی کے حوالے سے دریافت کریں۔

بچوں کو یہ سمجھائیں کہ آپ نے اسکول آتے جاتے، بازار یا کہیں اور جاتے ہوئے کس قسم کے لوگوں سے بات کرنی ہے اور کس قسم کے لوگوں سے بات نہیں کرنی ہے۔ ہمیشہ اپنے ہم عمر بچوں سے دوستی کریں، ان کے ساتھ کھیلیں کودیں اور اگر ان سے بڑی عمر کا لڑکا یا لڑکی دوستی کی آفر کرے تو فوراً اسے رد کر دیں۔

اگر خدانخواستہ کوئی بھی اجنبی شخص انہیں کوئی ٹافی، تحفہ یا کوئی اور چیز دے تو ان سے ہرگز نہ لیں اور ایسے لوگ کسی پارک، باغ یا کسی اور جگہ گھومنے کے بارے میں کہیں تو ان کے ساتھ مت جائیں۔ اگر ایسے لوگ کسی بھی جگہ آپ سے زبردستی کریں یا آپ کو اٹھا کر کہیں لے جانے کی کوشش کریں تو زور زور سے شور مچائیں اور مدد کے لیے پکاریں۔ بچوں کو یہ بھی بتانا چاہیے کہ اگر اسکول یا مدرسے سے چھٹی ہوتی ہے تو اپنے دیگر کلاس فیلوز کے ساتھ ہی وہاں سے نکلیں۔ اگر پڑھانے والا شخض آپ کو اکیلے میں مزید رہنے کا کہے تو انکار کر دیں اور گھر کی طرف نکلیں۔

بلاشبہ معاملات کبھی بھی ویسے حل نہیں ہوتے جیسے ہم اْن کے حل ہونے کی اْمید کر تے ہیں اور بعض اوقات ہماری اپنی اْمیدیں ہی اْن کے حل میں رکاوٹیں پیدا کر دیتی ہیں، لیکن اگر معاملہ ہمارے مستقبل کے معماروں کا ہو تو ہمیں کبھی بھی برداشت کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے۔

ہمیں چاہیے ہم آگے بڑھیں، سامنا کریں اور معاملات خود درست کریں۔ یہ بات افسوس سے کہنی پڑتی ہے کہ پاکستان میں بچوں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں میں جنسی زیادتی سرِفہرست ہے اور اس میں خطرناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے۔ باوجود اس خطرناک حد تک اضافے کے اس 97 فیصد مسلمان آبادی والے ملک میں عوام نعروں میں، حکمران بھاشن دینے میں، ادارے شائنگ سٹارز بننے میں مصروف نظر آتے ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ سخت سے سخت قانون بنا کر ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے کردار ادا کرے۔ ایسے مجرموں کو سرعام پھانسی دینی چاہیے۔ اس امر سے معاشرے میں مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ یہ وحشیانہ سزا ہی اس وحشیانہ جرم کا سدباب کر سکتی ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ پاکستان میں یہ سزا ایسے مجرموں کو کیوں نہیں دی جاتی؟ آپ کو تعجب ہوگا کہ پاکستان میں کسی انسان کے ساتھ جنسی زیادتی کرنے کی سزا محض سات سال کی قید ہے اور اگر کوئی شخص جانوروں کے ساتھ جنسی زیادتی کرتا پکڑا جاتا ہے تو اْسے سزائے موت دی جاتی ہے۔

کیا ہماری نظر میں انسان کی قیمت جانوروں سے بھی کم ہے؟ حکومت کو چاہیے کہ جس طرح اپنے مفادات کے لیے آئین میں ترمیم کی جاتی ہے، اسی طرح عوام کے مفادات کے لیے بھی اس میں ترمیم کرے۔ حکومت کے فرائض بڑھنے سے والدین کے فرائض کسی صورت کم نہیں ہوتے۔ والدین کو چاہیے وہ بچوں کو ابتدائی تعلیم سے آگاہی دیں۔اْنہیں حفاظتی تدابیر سے روشناس کروایا جائے۔ انہیں سکھایا جائے کہ وقت آنے پر اپنی حفاظت کیسے کرتے ہیں؟ اگر آج ہم اپنے بچوں کا بچاؤ نہیں کرتے تو کل ہمارے پاس پچھتاوے کے علاوہ کچھ نہیں ہوگا۔

What's Your Reaction?

like
0
dislike
0
love
0
funny
0
angry
0
sad
0
wow
0