سات جادو بھرے الفاظ

اچھے اخلاق اور نرم الفاظ نے کئی خطرناک مراحل کو فتح کیا ہے۔(وانبرگ)

سات جادو بھرے الفاظ

یہ پین آپ ہی کے لیے بناہوا ہے سر! آپ جیسی شخصیت کی انگلیوں میں ایسا ہی نفیس قلم جچتا ہے۔‘‘

میں نے مڑکرکر دیکھا تو کائونٹر پر موجود سیلزمین اپنے سامنے کھڑے شخص سے بات کر رہا تھا۔ کائونٹر پر دو بڑے شاپر رکھے ہوئے تھے جو یقیناً اس آدمی کے تھے۔ میں بچوں کے لیے سامان لے کر کائونٹر پر آیا تووہ شخص بڑی دلچسپ نظروں سے اس قلم کو دیکھ رہا تھا۔کچھ ہی دیر میں اس نے قلم کی رسید بنوائی اور ادائیگی کرکے چلا گیا۔ سپر سٹور سے فارغ ہوکر میں گاڑی میں آبیٹھا اور ایک بار پھر سپر سٹور والا منظر میرے سامنے آگیا۔ وہ شخص کافی زیادہ خریداری کر چکا تھا۔

بظاہر اسے قلم کی ضرورت بھی نہیں تھی لیکن اس کے باوجود بھی اس کا ہاتھ اپنے بٹوے تک گیا اور نوٹ گن کر دے دیے۔ یکایک میرے ذہن میں Conversational Hypnosis (گفتگو سے مسحور کرنا) کی تکنیک آگئی۔ یہ گفتگو کا ایسا انداز ہے جس میں انسان اپنے مقصد کی بات نہیں کرتا بلکہ دوسری چیزوں کے متعلق بات کرکے مخاطب کے دِل میں اپنی مطلوبہ بات کے لیے دلچسپی پید ا کرلیتا ہے ۔

سیلز مین نے بھی یہ تکنیک اپنائی۔ اس کا مقصد قلم بیچنا تھا لیکن اس نے براہ راست یہ نہیں کہا کہ جناب ! آپ یہ قلم خریدیں ، بلکہ اس نے پہلے اپنے سامنے کھڑے انسان کی تعریف کی، اس کو اعلیٰ شخصیت ظاہر کیا اور اس کے ذہن میں غیر محسوس طریقے سے یہ بات بٹھا دی کہ کسی معمولی کوالٹی کا قلم آپ کی شخصیت پر ’’جچتا‘‘ نہیں ۔یوں اس کی کوشش رنگ لائی اور اس شخص نے وہ قلم خرید لیا۔

Conversational Hypnosisایک دلچسپ تھیوری ہے جس میں یہ بتایا جاتا ہے کہ آپ دوسروں کے ساتھ ایسے انداز میں گفتگو کریںکہ آپ کے الفاظ ان کو برے بھی نہ لگیں اور غیر محسوس طریقے سے آپ اپنی بات بھی منوا لیں۔ الفاظ کا بہترین انتخاب گفتگو کو موثر بناتا ہے لیکن ا س کے ساتھ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ہر لفظ، اپنا ایک مستقل معنی اور اثر بھی رکھتا ہے۔ اگر ہمارے پاس الفاظ نہ ہوں توہم اپنے احساسات اور جذبات کا اظہار بھی نہ کرسکیں اور یوں روزمرہ زندگی کے ہمارے بہت سارے معاملات ادھورے رہ جائیں۔

الفاظ نہ صرف انسان کی بیرونی زندگی پر اثرانداز ہوتے ہیں بلکہ اپنے ساتھ ہونے والی گفتگو بھی، جس کو خودکلامی کہا جاتا ہے، اس کے خیالات و افکار پر بھرپور اثر ڈالتی ہے۔ خودکلامی کی طاقت کا اندازہ آپ اس بات سے لگائیں کہ صبح نیند سے بیدا ر ہونے کے بعد جو پہلا لفظ (منفی یا مثبت) انسان کے ذہن میں آتا ہے اور وہ کچھ دیر کے لیے اس پر سوچنا شرو ع کرتا ہے تو پھر سارا دِن وہ لفظ اس کے ذہن پر سوار ہوتا ہے۔

لفظ کوعربی میں ’’کلمہ‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔ عربی لغت کے مطابق کلمہ کا ایک معنی کلام یعنی گفتگو ہے۔ اس کے علاوہ ایک دلچسپ معنی اوربھی بیان کیا جاتا ہے اور وہ ہے: ’’زخمی کرنا‘‘ اس معنی کے پیچھے منطق یہ بیان کی جاتی ہے کہ چونکہ الفاظ انسان کو زخمی بھی کرسکتے ہیں، اس کے جذبات کو مجروح کرسکتے ہیں، اس کے حوصلوں کو پست کرسکتے ہیں، اس کو جوڑ بھی سکتے ہیں، تو ڑ بھی سکتے ہیں، اس کی حوصلہ افزائی بھی کرسکتے ہیں اور حوصلہ شکنی بھی، تو اس وجہ سے اس کا یہ معنی بھی بیان کیا جاتا ہے۔

آج سے سات سال پہلے ایک کتاب شائع ہوئی جس کا نام تھا :Magic Words، اس کے مصنف کا نام ٹم ڈیوڈ (Tim David) ہے۔ یہ کتاب اپنے منفرد موضو ع کے لحاظ سے بڑی شاندار کتاب ہے۔اس کتاب کے مصنف کافی عرصہ میجیشن (جادوگر) اور ذہن ساز رہے۔ انہیں اپنے کام میں بڑی مہارت تھی اور لوگ اس کے پروگراموں میں جوق درجوق شرکت کرتے۔ وہ ایک سال میں تین سے زائد لائیو پروگرام کرتے اور لوگوں کو اپنے کرتبوں سے محظوظ کرتے۔ شاندار کارکردگی کی بناء پر 2010ء میں ان کا شمار اپنے شعبے کی قدآور شخصیات میں ہونے لگا۔

سوشل میڈیا پر 70سے زائد ممالک کے لوگ ان سے رابطہ کرتے اور اس کی شاگردی اختیار کرنے لگے۔ چونکہ ان کا پیشہ ہی دوسروں کو سحر میں مبتلا کرنا تھا اس لیے وہ اس بات سے بخوبی واقف ہوگئے کہ جادوئی کرتبوں کے ساتھ ساتھ الفاظ بھی انسان کو اپنے سحر میں مبتلا کردیتے ہیں۔ اس موضوع پر مزید تحقیق کے بعد ان کو معلوم ہوا کہ روزمرہ گفتگو میں بولے جانے والے سات الفاظ ایسے ہیں جو ہم روزانہ کئی بار استعمال کرتے ہیں لیکن ان کو اگر بہترین انداز میں استعمال کیے جائیں تو اس کے زیادہ بہتر نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔

اِس کتاب میں چھوٹے چھوٹے نفسیاتی حربے بیان کیے گئے ہیں جن کی بدولت معمولی الفاظ بھی سننے والے پر اپنے اثرات چھوڑتے ہیں اور اس کے سوچ ، رویے اور عادت میں تبدیلی لاتے ہیں۔الفاظ کے جادو کا یہ کھیل اس قدر زبردست ہے کہ کسی بھی انسان کے رویے کو بدلنے کے لیے براہ راست اس کو بتانا نہیں پڑتا بلکہ اس کے لاشعور میں ایک نئی بات ڈال دی جاتی ہے ، وہ بات اس کے ذہن کو سوچنے پر مجبور کرتی ہے ، سوچنے سے عمل وجود میں آتا ہے اور یوں متوقع نتائج نکل آتے ہیں۔ اس کتاب میں بیان کردہ ٹم ڈیوڈ کے وہ سات الفاظ مندرجہ ذیل ہیں:

) (1جی، ہاں (Yes)

جب بھی کسی گفتگو میں آپ ’’جی‘‘ ، ’’ہاں‘‘ یا’’ ٹھیک ہے‘‘ سے آغاز کرتے ہیں تو مخاطب کے دِل میں آپ کے لیے قدر پیدا ہو جاتی ہے، اگرچہ آپ اس کی سو چ سے اختلاف رکھیں۔ اس کے برعکس جب آپ کسی کی بات سن کر’’ناں ‘‘ یا ’’نہیں ‘‘ سے اپنی بات کا آغاز کرتے ہیں تو اس سے تکرار پیدا ہوتی ہے۔ تکرار سے بات، طویل سے طویل ہوتی جاتی ہے اور اس کا کوئی حل نہیں نکلتا۔ اگر آپ کسی سے متفق نہیں بھی ہیں تو ’’ٹھیک ہے‘‘ کا استعمال کیجیے۔اس کی بات تحمل سے سنیں اور اس کے بعد اپنی رائے پیش کریں تو عین ممکن ہے کہ سننے والا آ پ کی رائے مان لے اور یوں آپ اس سے اپنی بات منوا لیں گے۔

(2) لیکن، مگر (But)
ایک انسان آپ کو کسی چیز کا تعارف کروا رہا ہے۔ بولتے بولتے اچانک وہ ’’لیکن‘‘ بول دیتا ہے تویہ لفظ فوری طورپر آپ کے دماغ پر دستک دے دیتا ہے ۔آپ تجسس میں ہوتے ہیں کہ ’’لیکن‘‘ کے بعد یہ کیا بولے گا۔’’لیکن، مگر‘‘یہ دونوں الفاظ دو جملوں کے درمیان استعمال ہوتے ہیں اورعام طورپرجب یہ الفاظ بولے جائیں تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ پہلے جو بات کی گئی ہے اب اس کی نفی کی جارہی ہے۔ ’’لیکن‘‘ سے پہلے واقعے کا ذکر ہوتا ہے اور اس کے بعد والے جملے میں اس واقعے کا سبب بیان کیا جاتا ہے ۔’’لیکن‘‘ کے بعد والے جملے کی بڑی طاقت ہوتی ہے، کیونکہ وہ پوری دلیل کے ساتھ بولاجاتا ہے۔آپ کو کسی سے گفتگو کے دوران دوسرے کی رائے کے خلاف اپنی بات منوانے میں مشکل پیش آئے تو آپ لیکن کی طاقت کو استعمال کرسکتے ہیں۔ اپنی گفتگو ’ہاں ‘سے شروع کیجیے پھر سامنے والے کی رائے یا یقین کو پہلے جملے کے طور پر دہرائیں اور’ لیکن ‘لگائیے۔ اس کے بعد اپنی رائے یا یقین جو دوسرا جملہ ہوگا وہ ادا کیجیے۔

(3) کیوں کہ (Because)
ہمارے دماغ حقائق کے تلاش میں رہتے ہیں۔ ہم وہ چیزیں بآسانی تسلیم کرلیتے ہیں جن کی منطق ہمیں سمجھ آجاتی ہے۔ ’کیوںکہ‘ کا لفظ بھی دو جملوں کے درمیان رابطے کا کام کرتا ہے۔ کیوں کہ سے پہلے ادا کیا جانے والا جملہ وہ واقعہ ہوتا ہے جو ہمارے ساتھ پیش آیا اور اکثر ہمارے لیے اسے تسلیم یا قبول کرنا مشکل ہوتا ہے۔’ کیوں کہ ‘کے بعد والا جملہ اس واقعے کا سبب واضح کرتا ہے اور یوں پہلے جملے میں بیان کیا گیا واقعہ قابلِ برداشت ہوجاتا ہے۔ جو بات کسی وجہ کے بغیر بیان کی جائے، لوگ اس میں اُلجھ جاتے ہیں اور قبول نہیں کر پاتے۔

(4)مخاطب کا نام (Name)
ڈیل کارنیگی کے بقول دنیا کا سب سے پرکشش لفظ خود انسان کا اپنا نام ہے۔ نام میں وہ کشش ہے جو کسی دوسرے لفظ میں نہیں۔کسی بھی انسان کو اس کے نام سے پکارنے سے اس کو یہ احساس ہوتا ہے کہ میری ایک حیثیت ہے ۔یہ ایک طرح کی عزت افزائی ہے۔ بھرے مجمع میں بھی کسی کا نام پکارا جائے تو اس کی توجہ فوراً اس آواز پر جائے گی کہ کس نے کہاں سے اس کا نام پکارا ہے۔ ہر انسان کو اس کے نام سے پکاریے یوں اس کے دِل میں آپ کے لیے عزت بڑھے گی۔

’(5) اگر (If)
’اگر‘ کا لفظ جملے میں موجود مزاحمت کی قوت کو توڑ دیتا ہے اور سننے والے کو ایک نئی امید دیتا ہے۔’’اگر‘‘ کالفظ جب بھی گفتگو میں بولا جائے تو سننے والے کو یہ احساس ہو جاتا ہے کہ بولنے والا اس پر اپنی گفتگو مسلط نہیں کررہا بلکہ وہ اس کو بھرپور اہمیت دے رہا ہے اور اس کی مشاورت سے ہی کوئی فیصلہ کرنا چاہتا ہے۔ مثلا ً آپ کے دوست اس بات کے خواہش مند ہیں کہ آپ ان کے ساتھ سیر کے لیے جائیں لیکن آپ کسی ضروری کام میں مصروف ہیں اور آپ ان سے کہتے ہیںـ:’’اگر ہم لوگ شام کوچلے جائیں تو‘‘ یہ جملہ زیادہ موثر ہے، بہ نسبت اس کے کہ آپ جانے سے انکار ہی کر دیں۔

(6) مدد(Help)
روزمرہ زندگی میں ہمیں اکثر دوسروں کی مدد کی ضرورت پڑتی ہے لیکن اکثر اوقات یہ مدد ایسے بے ہنگم انداز میں مانگی جاتی ہے کہ مدد کرنے والا انسان مدد تو کردیتا ہے لیکن بڑی بے دِلی کے ساتھ۔ مثال کے طورپر آپ دفتر میں اپنا لیپ ٹاپ بھول آئے لیکن گھر آکر آپ کو اس کی ضرورت پڑگئی۔آپ کو یاد آیا کہ آپ کا دوست ابھی تک دفتر میں ہے ۔آپ کو اس کی مدد کی ضرورت پڑگئی۔ اب ایک طریقہ یہ ہے کہ آپ اس کو فون کر کے کہیں: ’’تم نے ویسے بھی آنا ہے، میرا لیپ ٹاپ بھی لیتے آنا‘‘ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ آپ اس کو کہیں: ’’مجھے آپ کی مدد کی ضرور ت پڑگئی ہے۔ براہ کرم آپ آتے ہوئے میرا لیپ ٹاپ لیتے آئیں۔‘‘ دونوں صورتوں میں آپ کا کام ہو جائے گا لیکن دوسرے طریقے میں آپ کے دوست کو اپنی اہمیت کا احساس ہوگا۔ دوسرے انسان کو عزت دینے کا یہ مؤثر طریقہ ہے۔

(7) شکریہ (Thanks)
’’شکریہ‘‘ کا لفظ سننے والے کے کانوں میں رس گھول دیتا ہے۔ اس کا حوصلہ بڑھ جاتا ہے اور وہ آئندہ بھی آپ کے کام آنا چاہتا ہے۔ یہ لفظ اس بات کا ثبوت بھی ہے کہ آپ نے کسی انسان کے کام کی اہمیت کو سمجھا ہے اور اس کی عزت افزائی کرنا چاہتے ہیں۔ یہ وہ عادت ہے جو انسان کوذاتی اور پروفیشنل زندگی میں بہت ہی قابل قدر انسان بنا دیتی ہے۔

ایک عقل مند کا کہنا ہے: ’’انسان دوسال کی عمر میں بولنا سیکھ جاتا ہے لیکن کب کیا بولنا ہے، یہ سیکھنے میں پوری زندگی لگ جاتی ہے۔‘‘”Magic Words” کتاب میں بیان کردہ یہ تمام وہ الفاظ ہیں جو آپ کو سکھاتے ہیں کہ آپ نے کس موقع پر کیا بولنا ہے اور کس طرح سے ایک خوشگوار انداز میں اپنے مخاطب کو قائل کرنا ہے۔ ان الفاظ کو آج ہی سے اپنی گفتگو کا حصہ بنائیے، آپ دیکھ لیں گے کہ آپ کے بہت سارے معاملات بہترین ہوجائیں گے اور لوگ بھی آپ کے گرویدہ بن جائیں گے۔

What's Your Reaction?

like
0
dislike
0
love
0
funny
0
angry
0
sad
0
wow
0