سر سید احمد خان

میر افسرامان

سر سید احمد خان

جمیل یوسف صاحب سابق پرنسپل سر سید کالج واہ کینٹ ،جماعت اسلامی کے شعبہ علم و ادب ،قلم کاروان کے ہفتہ وار علمی و ادبی پروگرام میں تشریف لائے۔ راقم اور تمام شرکاء کو اپنے کتاب” مسلمانانِ برصغیر کے محسن سر سید احمد خان “ ہدیہ کے طور پر پیش کی ۔ ہماری عادت ہے کہ ہمارے ہاتھ آنے والی ہر کتاب کا مطالعہ کر کے اس پر تبصرہ لکھ کر اپنی ذاتی لائبیر ری کی زینت بنا دیتے ہیں۔

ا س کتا ب پر بھی کیا گیا تبصرہ قارئین کی نظر ہے۔
جمیل یوسف لکھتے ہیں کہ دو قومی نظریہ سب پہلے سر سید احمد خان نے پیش کیا تھا۔ اس سے پاکستان کی منزل کا سراغ ملتا ہے۔ اس بات پر اگر تجزیہ کیا جائے توحقیقت تو یہ ہے کہ دو قومی نظریہ تو اس وقت ہی ظاہرہو گیاتھا، جب اسلام اور کفر کی پہلی جنگ ِبدر میں پیش آیا تھا۔

جنگ بدر میں ایک ہی قوم کے افراد ایک دوسرے کے خلاف نبرد آزما ہوئے تھے۔

جس میں ایک دوسرے نے اپنے قرببی رشتہ داروں کو قتل کیا تھا۔ ایک طرف اسلام اور دوسری کفر تھا۔یہیں سے دو قومی نظریہ نے جنم لیا تھا۔
لکھتے ہیں سرسید احمد خان کے حالات و واقعات، ان کی خدمات اور ان کی مہمات کا خیال کیا جائے تو حریت ہوتی ہے کہ یہ کیسا عظم شخص تھا۔ در اصل کئی شخصیتیں اس ایک شخص میں جمع ہو گئیں تھیں۔مذہب،اخلاق،معاشرت،تعلیم،سیاست،خطابت،اُردو نثر، مضمو ن نویسی، ادارت،انجمن سازی،انجینئرنگ، آثار قدیمہ، تاریخ نویسی،غرض قومی زندگی کے ہر شعبہ میں آنے والوں کے انمٹ نقوش چھوڑے۔

مگر قدامت پرستوں اور روایت پسندوں نے ان کی مخالفت کی۔
اگر سرسید کی محنت کو سامنے رکھ کر تبصرہ کیاتو مصنف کی باتیں صحیح نظر آتی ہے۔سر سید نے اپنی کتاب آثار الصنادید ، جس میں شہر دہلی اور اس کے نواح میں موجود پرانی تاریخی عمارات کے مشا ہدے اور ان کے بارے میں تحقیق و تجسس کیا وہ ان کا فطری مشکل پسندی کا جذبہ لگتا ہے۔ سر سیدنے آئین اکبری کتاب کو جو مشکل الفاظ پر لکھی گئی تھی کو آسان زبان میں تحریر کیا۔

اس کتاب میں اکبری دورکے سکوں،ٹکسال،آلات، ظروف، اوزار، ہتھیار، زیوارات، شکار، اور یورش کے موقعہ پر شاہی خیمہ گاہ ،چراغ خانہ اور اکبر کی آتش پرستی ، شکوہ سلطنت، کے تمام کوازمات، تزک و احتشام کے مناطر، فیل خانہ،ہاتھیوں کی پوشش، ہاتھیوں کی کشتی، اس زمانے کے تمام پھل دار درخت، ان کی شاخیں، برگ و ثمراور پھول پتے ، غرض ہر شے کی تصاویر، دہلی کے لائق مصور سے بنا کر کتاب میں شامل کیں۔

اکبر کے زمانے کی حکومت کے تمام محکموں کے طریقہ کارکو اس کتاب میں بیان کیا۔ کیا یہ آسان کام ہے؟ تاریخ فروز شاہی جو ضیاء الدین برنی نے تحریر فرمائی تھی۔ اس کے چار مختلف نسخے حاصل کر کے اس کا تصیح شدہ نسخہ، ایشایٹک سوسائٹی آف بنگال کو دیا۔ جو ایشایٹک سوساٹی آف بنگال نے نئے سرے سے شائع کیا۔ یہ بھی ایک جان جوکھوں جیسا کام سر سید نے کیا۔

تبیین الکلام کتاب لکھ کر عیسائیوں اور مسلمانوں مناظرہ بازوں کے درمیان راستی اختیار کر نے کی کوشش کی۔ علی گڑھ اخبار نکالا۔ جس میں مسلمانوں کو اور اہل فکر و نظر کو اپنی بنائی ہوئی سائنٹیفک سوسائٹی کی سرگرمیوں سے آگاہ کرنے کی کو شش کی۔،خطبات احمدیہ کتاب میں اسلام اور نبی محترم حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم کے خلاف ولیم مور کی کتاب ’ لائف آف محمد“ میں مخالف تحریر وں کا رد کیا۔

سیر سید نے اپنی کتاب خطبات احمدیہ میں دلائل سے جواب دے کر اپنی ایمانی کا مظاہرہ کیا۔سر سید کی اس سے زیادہ بہادری اور کیا ہو سکتی ہے کہ سر ولیم مور اس وقت برطانوی ہند میں لیفٹینیٹ گورنر کے عہدے پر فائز تھا۔ دوستوں نے سر سید کو ایسا کرنے سے منع بھی کیا تھا۔ مگر سر سید نے وہ ہی کام کیا جو ایک سچے مسلمان کو کرنا چاہیے تھا۔سر سید نے رسالہ تہذیب الاخلاق نکالا۔

جس میں مسلمانوں کو انگریزوں کا مقابلہ کرنے کے انگریزی زبان سیکھنے کی ترکیب دلائی۔ہنٹر کی کتاب ” آور انڈین مسلمانز“میں پروپیگنڈا کیا گیا کہ مسلمان کبھی بھی انگریزوں خیر خواہ نہیں ہو سکتے۔ انگریزوں سے لڑنا ان کا مذہبی فریضہ ہے۔ سر سید نے سوچا کہ جومیں نے ۱۸۵۷ء کی جنگ کے بعد مسلمانوں اور انگریزوں میں دشمنی کی خلیج کم کرنے کی کوششیں کی تھیں ۔

یہ کتاب ان پر پانی ڈال دے گی۔سر سید نے ثابت کیا کہ اسلام عیسائیت میں درمیان بیچ کا راستہ نکل سکتا ہے۔ مسلمانوں حضرت عیسٰی کو بھی نبی مانتے ہیں۔ قرآن عیسائیوں کو اہل کتاب کہتا ہے ۔ سر سید نے لکھا کہ قرآن نے عیسائیوں کو مسلمانوں کامشرکوں اور یہودیوں سے زیادہ قریب کہاہے۔تفسیر القرآن اس لیے لکھنے شروع کی کہ سر سید نے انگلستان میں قیام کے دوران مشاہدہ کیا تھا کہ دنیوی تعلیم کی وجہ عیسائیوں نے ترقی کی ہے۔

اس سے عیسائی دین سے دور ہو گئے۔ سر سید نے بھی علی گڑھکالج میں انگریزوں کی طرز کا نظامِ تعلیم رائج کیا۔ ایسی تعلیم حاصل کر کے کہیں مسلمان بھی اپنے دین سے دور نہ ہوجائیں۔ اس تعلیم سے جو آگے ہونا تھا وہ تو ہوا مگر سر سید نے اس توکو روکنے کی کوشش اپنی تفسیر القرآن میں کوشش تو ضرور کی۔
لکھتے ہیں کہ ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی کی ناکامی کے بعد بے بسی اور کسمپرسی مسلمانوں کا مقدر بن گئی تھی۔

انگریز نے حکومت مسلمانوں سے چھینی تھی۔ وہ مسلمانوں کو اپنا حریف سمجھتے تھے۔ مسلمانوں کی باقی ماندہ قوت کے ہر نشان کو سختی سے کچل دینا چاہتے تھے۔انگریز نے مسلمان زعماء اور اشرفیہ کو ایک ایک توپوں سے اُڑا دیا تھا۔مسلمان اپنی جانیں بچانے کے لیے پناہ گائیں ڈھونڈرہے تھے۔ ایسے حوصلہ شکن اور رُوع فرسا حالات میں سی سید احمد خان مسلمان قوم کی دستگیری کو آگے بڑھے۔

بابائے اُردو کی کتاب ” مطالعہ سر سید احمد خان“ میں ڈاکٹرنذیر احمد نے اپنے مضمون میں لکھا ہے۔ اگر سر سید نہ اُٹھتے توہندوستان میں مسلمانوں کا وہی حال ہوتا جو اسپین کے مسلمانوں کا ہوا تھا۔ مولانا صلاح الدین نے اسی کتاب میں اپنے مضمون میں لکھا ہے کہ یاد رکھیں کہ اگر سر سید قومی وحدت اور قومی ہستی کی بنیاد استوار نہ کرتے ، جس پر علی گڑھ کی عظیم المشان عمارت تعمیر ہوئی اور قومی احساس اور روشن خیالی کی وہ شمع روشن نہ کرتے جو آج سے کم و بیش ایک سو پچیس سال پیشتر انہوں نے روشن کی اور ہمیں بلا کے پنجے اور ذہنی استبداد سے نجات دلا کر زندگی کی صحیح اقدار سے روشن نہ کراتے تو ظلمِسانِ ہند میں ہم نیم وحشہ قابائل کی طرح ٹھوکریں کھاتے پھرتے۔


 لکھتے ہیں کہ جنگ آزادی میں مسلمانوں کی شکت کے باجود انگریز کو اگر خطرہ تھا تو مسلمانوں سے ہی تھا۔ دوسری طرف مسلمان انگریز سے شدید نفرت کرتے تھے جو فطری تھی۔سر سید نے انگریز کے خوف اور مسلمانوں کی نفرت کے وقت کے درمیان خلیج پاٹنے کے لیے رسالہ” اسباب بغاوتِ ہند“ تحریر کیا۔اس کی کاپیاں عام انگریزوں اور پارلیمنٹ کے ارکان میں تقسیم کیں۔

اس پر مسلمانوں نے انگریزوں کا ایجنٹ اور انگریزوں نے بغاوت مقدمہ قائم کرنے کی دھمکی دی۔
اگر غیر جانب داری سے اس پر تبصرہ کیا جائے تو ایسے جنگی ماحول میں کسی مسلمان کی طرف سے کوئی مفاہمت کا راستہ نکالنے کہ ہمت کرنا جان جوکھوں میں ڈالنے والی بات تھی۔ شکست سے چور مسلمان اسے اپنے زخموں پر نمک چھڑکنا سمجھتے اور جیتنے والے انگریزسے مسلمانوں کی طرف سے پھر سر اُٹھاناسمجھتے۔

اس کو اگر کوئی سر سید کو ملامت کرتا ہے تو ہمارے نزدیک تو اسے وقت کی نزاکت کاا دراک نہیں تھا۔
ایک بات جو مصنف نے لکھی ہے کہ سر سید علامہ اقبال، حمیداللہ فراہی، غلام احمدپرویز، مولانا امین احسن اصلاحی اور موجودہ دور کے جاوید احمد غامدی نے اسی طریقے پر قرآن کی تفسیر کی ہے۔ عرض گزارش ہے کہ علامہ اقبال نے تو قرآن کو حدیث کو سامنے رکھ کر بات کی ہے ۔

ایک مردہ قوم کو پھر سے زندہ کیا ہے۔قوم میں بھی متنازہ نہیں ہیں۔ آج اگر ہمارے علماء مشائق، سیاست دان، دانشور اور عام مقررعلامہ اقبال کا ایک شہر اپنی تقریر میں نہ پڑھیں تو ان کی تقریر مکمل نہیں ہوتی۔ رہا دوسرے لوگوں کا تو اگرحدیث کے خزانے جس کو ہمارے اسلاف نے بڑی محنت سے ہم تک پہنچایا ہے،اس کو ایک طرف رکھ کر کوئی بھی قرآن کی تفسیر کرتا ہے تو اس کو قبولیت عام نہیں مل سکتی جو قرآن اور حدیث کو ایک ساتھ رکھ کر مل سکتی ہے۔

 صاحبو!اگرمسلمانوں کے کسی تعلیمی ادارے کا چیف انگریز ہو۔تدریس کا سارا عمل آکسفورڈ سے لایا گیا انگریز ہو۔لانے والا وہ سید محمود ہوجو ہر وقت شراب میں دھت رہتا تھا۔جس ادارے کا مالیت کا انچارج ایک ایسا ہندو ہو جو سالوں سے کرپشن کرتا رہا ہو۔ پکڑے جانے پر خود کشی کر لے۔ اس ادارے کی بلڈنگ کتنی ہی عالیشان ہو۔ اس ادارے میں تعلیم حاصل کرنے والے ویسے ہی نکلیں گے جیسے ان کے اُستاد تھے۔

اب بھی مشنری اسکولوں سے نکلنے والے مسلمان تو ہوتے ہیں،مگر انگریز کی تہذیب ساتھ لاتے ہیں۔ جیسے ہماری سابقہ وزیر اعظم صاحبہ فرماتیں تھیں کہ آذان بج رہا ہے۔ مشنری اسکولوں سے پڑھے بیروکریٹس ملک کی ترقی میں رکاوٹ ہیں۔سر سید کے کالج سے پڑھ کر نکلنے والوں پر خود سر سید نے بھی پریشانی کا اظہار کیا تھا۔لیکن مسلمانوں کی اصلاح کے لیے دن رات ایک کرنے والے سر سید احمد خان،کی ذات پر جو مسلمانوں کے خلاف اٹھنے والی ہر سازش کا توڑ کرتے تھے ، کو کسی قسم کا الزام دینا سورج کے سامنے انگلی والی بات ہو گی۔

What's Your Reaction?

like
0
dislike
0
love
0
funny
0
angry
0
sad
0
wow
0