شطرنج کا کھیل مارچ میں ختم ہوگا؟

سیاست میں استعفیٰ لینے کے لئے بعض اوقات استعفے دینا پڑتے ہیں مگر سیاسی بساط پر مخالفین کو شہ مات دینے کے لئے ہر چال سوچ سمجھ کر چلنا پڑتی ہے۔

شطرنج کا کھیل مارچ میں ختم ہوگا؟

محمدبلال غوری

اپوزیشن جماعتیں بالعموم استعفوں کو حکومت پر دبائو بڑھانے کی غرض سے ترپ کے پتے کے طور پر استعمال کرتی ہیں مگر بعض اوقات حکومت بھی اپنی عددی برتری اور حمایت ثابت کرنے کے لئے اِسی قسم کے حربے بروئے کار لاتی ہے۔

سقوطِ ڈھاکہ کے بعد ذوالفقار علی بھٹو نے بطور سول مارشل لا ایڈمنسٹریٹر عنانِ اقتدار سنبھال لی۔ چونکہ ملک میں پہلے سے ہی مارشل لا نافذ تھا، اِس لئے اقتدار کی منتقلی کا یہی طریقہ تھا۔

بھٹو نے اعلان کیا کہ وہ پہلی فرصت میں مارشل لا اُٹھا لیں گے اور ضرورت سے زیادہ ایک دن بھی چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر رہنے پر اصرار نہیں کریں گے۔ جب اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے مارشل لا اُٹھانے کا مطالبہ زور پکڑنے لگا تو بھٹو نے پیپلز پارٹی کے ارکانِ قومی اسمبلی سے استعفے جمع کر لئے۔

3ستمبر 1972کو بھٹو نے انکشاف کیا کہ قومی اسمبلی کے ارکان کی بڑی تعداد نے مارشل لا نہ اُٹھانے کا مطالبہ کیا ہے اور اِس مطالبے کے حق میں اپنے استعفے مجھے ارسال کردیے ہیں۔

شیرباز خان مزاری جو ایوان میں آزاد گروپ کے پارلیمانی لیڈر تھے، انہوں نے لاہور ہائیکورٹ میں ایک پٹیشن دائر کردی جس میں موقف اختیار کیا گیا کہ مارشل لا برقرار رکھنے کے حق میں استعفے جمع کروانے والے پیپلز پارٹی کے ارکان قومی اسمبلی کی فراغت کا نوٹیفکیشن جاری کرکے ضمنی الیکشن کروانے کا حکم دیا جائے کیونکہ ارکانِ قومی اسمبلی اپنے استعفوں پر دستخط کرنے کے بعد ایوان کے رُکن نہیں رہے۔

شیر باز خان مزاری اپنی سوانح حیات A Journey to Disillusionmentمیں لکھتے ہیں کہ ہائیکورٹ بھٹو کے فرماں بردار ادارے میں تبدیل ہو چکی تھی اور اخلاقی جرأت کا فقدان تھا، اس لئے ان کی دائر کی گئی یہ درخواست سماعت کے لئے مقرر نہ کی گئی۔

اِس ضمن میں دوسرا قابلِ ذکر واقعہ جنرل پرویز مشرف کے دورِ اقتدار سے متعلق ہے۔ جنرل پرویز مشرف نے ایل ایف او منظور کروانے کے لئے متحدہ مجلس عمل سے ڈیل کی مگر بعد ازاں آرمی چیف کا عہدہ چھوڑنے کے وعدے سے مکر گئے۔ جب جنرل پرویز مشرف دوسری مرتبہ باوردی صدر منتخب ہونا چاہتے تھے تو ایم ایم اے کے صدر قاضی حسین احمد نے پارلیمنٹ سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا۔

اپوزیشن جماعتوں پر مشتمل اتحاد اے پی ڈی ایم نے بھی بطور احتجاج اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کا اعلان کر دیا۔ استعفوں سے کہیں بڑا ہتھیار یہ تھا کہ ایم ایم اے خیبرپختونخوا اسمبلی تحلیل کردے تاکہ صدر کے انتخاب کے لئے الیکٹورل کالج ٹوٹ جائے اور جنرل پرویز مشرف صدر منتخب نہ ہو سکیں۔

ایم ایم اے اور اے پی ڈی ایم کی طرف سے یہ فیصلہ کیا گیا کہ وزیراعلیٰ اکرم درانی صوبائی اسمبلی تحلیل کرنے کے لئے گورنر کو سمری بھیجیں گے۔ جماعت اسلامی کے امیر قاضی حسین احمد مرحوم جو ایم ایم اے کے صدر تھے، ان کا خیال تھا کہ اس موقع پر جے یو آئی(ف)کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے اِن سے دھوکا کیا اور جنرل پرویز مشرف سے ڈیل کرلی۔

06اکتوبر 2007کو صدارتی الیکشن ہونا تھا اور مولانا فضل الرحمٰن کی مبینہ تائید و حمایت سے جنرل پرویز مشرف نے یہ چال چلی کہ 04اکتوبر کو وزیراعلیٰ اکرم درانی کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک جمع کروا دی گئی۔

اگر وزیراعلیٰ کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک آجائے تو وہ اسمبلی توڑنے کی سفارش نہیں کر سکتا۔ شکست خوردہ اپوزیشن ارکان مستعفی ہو گئے، خیبر پختونخوا اسمبلی سے اے این پی، جماعت اسلامی اور مسلم لیگ(ن) کے ارکان اسمبلی نے استعفے دے دیے مگر صدر کا الیکٹورل کالج برقرار رہا اور یوں جنرل پرویز مشرف دوسری بار باوردی صدر منتخب ہوگئے۔

استعفوں کو بطور سیاسی ہتھیار استعمال کرنے کا ایک اور موقع مسلم لیگ (ن)کے گزشتہ دورِ حکومت میں تب آیا جب تحریک انصاف کے ارکان قومی اسمبلی بطور احتجاج استعفے جمع کروانے کے بعد بند گلی میں پہنچ گئے۔اس موقع پر جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے سہولت کار کا کردار ادا کیا اور اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کو مشورہ دیا کہ پی ٹی آئی کے ارکان قومی اسمبلی کے استعفے منظور نہ کئے جائیں۔

اسپیکر ایاز صادق نے سیاسی مصلحت کے تحت اس معاملے کو دبائے رکھا۔ شاہ محمود قریشی کی طرف سے پی ٹی آئی کے 31ایم این ایز کے استعفے جمع کروائے گئے۔

اسپیکر قومی اسمبلی نے اعتراض اُٹھایا کہ استعفے اسپیکر قومی اسمبلی کے بجائے چیئرمین پی ٹی آئی کے نام بھجوائے گئے ہیں، چنانچہ سب کو نوٹس بھیجا گیا کہ وہ انفرادی طور پر چیمبر میں آکر ان استعفوں کی تصدیق کریں۔اب ایک بار پھر اپوزیشن استعفے دیکر استعفے لینے کی چال چل رہی ہے۔

یہ منصوبہ بھی زیر غور ہے کہ سندھ اسمبلی تحلیل کرکے سینیٹ کے انتخابات کا راستہ روک دیا جائے۔ اُدھر حکومت یہ حکمت عملی تیار کر رہی ہے کہ سینیٹ الیکشن مارچ کے بجائے فروری میں کروا دیاجائے۔

یہ کھیل مارچ 2018ء میں سینیٹ انتخابات سے ہی شروع ہوا تھا جب طاقتور لوگ کہا کرتے تھے مسلم لیگ (ن) کو سینیٹ کا الیکشن نہیں جیتنے دیں گے، لگتا ہے سیاسی شطرنج کا یہ کھیل مارچ میں سینیٹ انتخابات کے موقع پر ہی ختم ہوگا۔

What's Your Reaction?

like
0
dislike
0
love
0
funny
0
angry
0
sad
0
wow
0