صرف 10 سیکنڈ کا ویڈیو کِلپ 66 لاکھ ڈالرمیں فروخت

میامی: گزشتہ ہفتے صرف دس سیکنڈ کا ویڈیو کِلپ 66 لاکھ ڈالر کی خطیررقم میں فروخت ہوا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اسے میامی میں آرٹ کے نمونے جمع کرنے والے ایک شوقین پیبلو روڈریگز فریل نے 67 ہزار ڈالر میں خریدا تھا جو انہوں نے منافع پر بیچا ہے۔

 صرف 10 سیکنڈ کا ویڈیو کِلپ 66 لاکھ ڈالرمیں فروخت

اس ویڈیو کو ایک ڈجیٹل آرٹسٹ مائیک ونکل مان نے تیار کیا تھا جو بیپل کے نام سے مشہور ہیں۔ اس ویڈیو کی تصدیق بلاک چین کےذریعے کی گئی تھی جو ایک طرح کے ڈجیٹل دستخط کے ساتھ بنائی گئی ہے۔ اس پربلاک چین مہر سے انکشاف ہوتا ہے کہ یہ بیپل کی تخلیق ہے۔

دس سیکنڈ کی ویڈیو میں ڈونلڈ ٹرمپ کو شکست کے بعد ایک دیونما عفریت کی صورت میں دکھایا گیا ہے جس کی اطراف سے لوگ لاپرواہ ہوکر گزررہے ہیں۔

اگر یہ بات اب بھی سمجھ نہیں آئی تو سمجھئے کہ یہ انٹرنیٹ پر کرپٹوکرنسی اور بلاک چین کی طرح کا ایک نیا رحجان ہے جسے نان فنجیبل ٹوکن یا این ایف ٹی کا نام دیا گیا ہے۔ جس طرح کسی مشہور شخص کا آٹوگراف اصلی یا جعلی ہوسکتا ہے عین اسی طرح مصوروں کی پینٹنگ بھی اصلی یا جعلی ہوسکتی ہے۔ اب این ایف ٹی کا حقیقی تخلیق کار بلاک چین کے ذریعے اس کے اصلی ہونے کی تصدیق کرتا ہے۔

پوری دنیا میں وبا کے دوران این ایف ٹی کا رحجان پروان چڑھا ہے اور لوگوں نے اسے ڈجیٹل اثاثوں کی مانند سمجھتے ہوئےاس کی خریدوفروخت کا کام شروع کردیا ہے۔ چونکہ ڈجیٹل آرٹسٹ اپنی تخلیق میں بلاک چین عنصر شامل کرتا ہے اسی لیے اس کے جعلی ہونے کا امکان بہت کم رہ جاتا ہے۔  یعنی بلاک چین سے گزرنے والی ہرشے کی آن لائن تصدیق آسانی سے ہوسکتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ 67 ہزار ڈالر یعنی 10720000 پاکستانی روپوں میں خریدی گئی صرف دس سیکنڈ کی ویڈیو اب 66 لاکھ ڈالر یعنی ایک ارب روپے سے زائد میں فروخت ہوئی ہے۔ پیبلو روڈریگز نے بتایا کہ وہ اس ویڈیو کی پشت پر موجود ڈجیٹل فنکار کے کام سے واقف ہیں اور انہوں نے اس کی اصل ڈجیٹل تخلیق کو خریدا تھا۔

نان فنجیبل ٹوکن کو ڈجیٹل دنیا میں ایسی چیزوں کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے جن کی نقل نہیں بنائی جاسکتی اور وہ ایک سے دوسرے مالک کو منتقل ہوسکتی ہیں۔ ڈجیٹل اشیا کی قدر ڈالراور سونے جیسی نہیں بلکہ تاریخی نوادر جیسی ہے جو پوری دنیا میں ایک ہی ہوتے ہیں۔ ان میں مونا لیزا کی پینٹنگ ایک اچھی مثال ہیں۔

اب این ایف ٹی کی خریدوفروخت کے لیے کئی پلیٹ فارم موجود ہیں جن میں اوپن سی نامی ویب سائٹ بھی شامل ہے۔ یہاں اب لاکھوں کروڑوں ڈالر کی خریدوفروخت ہر ماہ ہورہی ہے۔ اب کرسٹیز جیسے روایتی اور مشہور نیلام گھروں نے این ایف ٹی کا کاروبار شروع کردیا ہے۔ اس میں پیبل کی ہی ایک تصویر ہے جو 5000 تصاویر کا مجموعہ ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ رقم کی ادائیگی کرپٹوکرنسی میں بھی کی جاسکتی ہے۔

What's Your Reaction?

like
0
dislike
0
love
0
funny
0
angry
0
sad
0
wow
0