فرانس جل اٹھا، درجنوں وہیکلز سمیت کئی عمارتوں اور سپر اسٹورزکو آگ لگا دی گئی

مظاہرین بے قابو،درجنوں زخمی،سینکڑوں گرفتار،بدامنی کی صورتحال

فرانس جل اٹھا، درجنوں وہیکلز سمیت کئی عمارتوں اور سپر اسٹورزکو آگ لگا دی گئی

مشہور ضرب المثل ہے کہ دوسرے کے لیے کھودا جانے والا گڑھا آپ کے اپنے ہی کام آتا ہے۔مسلمانوں کے خلاف سخت اقدام کرتے ہوئے اسلام کو بدنام کرنے ا ور آقائے نامدارﷺ کے خاکے بنا کر دین اسلام کا تمسخر اڑانے ا ور مسلمانوں کے زخموں پر نمک چھڑکنے والا فرانس اور اس کا ذلیل حکمران یہ سمجھتا تھا کہ وہ بہت اچھا کر رہا ہے مگر ایک چھوٹا سا قانون جو کہ اس نے اپنی رعایا کے لیے بنایا اس کے ایسے گلے پڑا کہ فرانس بھر جل اٹھا ہے۔

پچھلے دو ہفتوں سے فرانسیسی عوام سڑکوں پر ہیں اور متنازع قانون واپس لینے کے لیے حکومت کے خلاف مظاہرئے کیے جا رہے ہیں جبکہ حکومت قانون واپس لینے کی بجائے عوام کو کنٹرول کرنے پر اپنی توانائی خرچ کرنے پر لگی ہوئی ہے۔

اب زور بازو سے عوام کی بغاوت کو کچلنے سے پولیس اور عوام آمنے سامنے آ چکے ہیں۔

لاٹھی چارج،آنسو گیس اور ہوائی فائرنگ کے نتیجے میں درجنوں افراد زخمی ہو چکے ہیں اور سینکڑوں مظاہرین کو پولیس نے گرفتار کر لیا ہوا ہے۔ جبکہ مشتعل مظاہرین نے سڑکوں پر کھڑی گاڑیوں کی آگ لگا دی ہے سپر اسٹورز میں توڑ پھوڑ کرنے اور انہیں لوٹنے کے بعد آگ لگا دی گئی ہے۔

اس کے علاوہ سرکاری املاک کو بھی بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا گیا ہے۔

دن رات دنگے فساد اور شہروں کے امن کی صورت حال بدامنی کی تصویر بن چکی ہوئی ہے۔اب مظاہرین کے مظاہروں میں شدت آ چکی ہوئی ہے اور وہ حکومت سے متنازع قانون واپس لینے کے علاوہ ایمانول میکرون سے مستعفی ہونے کی ڈیمانڈ بھی کررہے ہیں۔تاریخ لکھے گی کہ دین اسلام کو چوٹ کرنے والے ایمانول میکرون کا اپنا ملک ہی اس کے لیے عذاب بن گیا تھا۔

What's Your Reaction?

like
0
dislike
0
love
0
funny
0
angry
0
sad
0
wow
0