فلسطین پر حملے اور ایردوان کی سفارت کاری

اسرائیل کے فلسطینیوں پر ماہ رمضان اور عید پر حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔اسی دوران ترکی کے صدر رجب طیب ایردوان نے اسرائیل کے وحشیانہ مظالم پر عالمی برادری کی بےحسی پر اظہار افسوس کیا ہے اور اسرائیل کو متنبہ کرتے ہوئے کہا ہے’’اگر اس نے فوری طور پر فلسطینی مسلمانوں کے خلاف حملوں کو بند نہ کیا اور انسانی بنیادی حقوق ، بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں کو جاری رکھا تو انسانیت کا بین الاقوامی اداروں اور قوانین پرسے اعتماد اٹھ جائے گا‘‘۔

فلسطین پر حملے اور ایردوان کی سفارت کاری

اس وقت چند ایک اسلامی ممالک پاکستان ، ایران، ملائیشیا ، انڈونیشیاکو چھوڑ کر پوری عالمی برادری فلسطینیوں کے اسرائیلی فوجیوں کے ہاتھوں قتلِ عام پر خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے تو اس دوران ترکی کے صدر رجب طیب ایردوان نے اسرائیل کے وحشیانہ حملوں کے خلاف اپنی بھر پور سفارتی کوششوں کو بھی سرعت بخش دی ہے۔ 

لیکن انہوں نے ابھی تک اسرائیل کےGod Father Illegitimateامریکہ سے کوئی رابطہ قائم نہیں کیا ہے ۔البتہ انہوں نےروس کے صدر ولادِ میر پیوٹن سے ٹیلی فونک رابطہ قائم کرتے ہوئے فلسطینیوں پر ہونے والے وحشیانہ حملوں کو رکوانے کے لیےصلاح و مشورہ کیا ہے۔

 اگرچہ اقوام متحدہ نے مسلمانوں کے مسائل کو حل نہ کرنے کا پختہ عزم کررکھا ہے اور سلامتی کونسل میں اسرائیل کا گاڈ فادر امریکہ اپنی ناجائز اولاد اسرائیل کے خلاف پیش کردہ قراردا د کی مذمت کرنا تو درکنار قرار دادہی کو ویٹو کرتا چلا آیا ہے اس بار بھی وہ اس قرار داد کو سلامتی کونسل میں پیش کرنے سےروکنے کےلیے مختلف حیلوں بہانوں سے اجلاس طلب کرنے میں رکاوٹیں کھڑی کرتا رہا ہے۔

لیکن اس بار ترکی اور روس نے سلامتی کونسل میں قرارداد منظور نہ ہونے کی صورت میں ایک الگ راستہ اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ ان دونوں ممالک نے دیگر ممالک کی حمایت سے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں قرارداد پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ جنرل اسمبلی میں قرارداد پیش کرنے کے لیےسلامتی کونسل کے 5 مستقل اور دس عبوری یعنی کل 15 ممالک میں سے 9 کی جانب سے یا پھر اس وقت موجود اقوام متحدہ کے 193 رکن ممالک میں سے 97 رکن ممالک کی جانب سے مشترکہ طور پر بیت المقدس کے تحفظ سے متعلق قرار داد پیش کرنے کے لیے انٹر نیشنل پروٹیکشن فورس (پیس کیپنگ فورس نہیں ہےکیونکہ امریکہ کسی بھی صورت پیس کیپنگ فورس تشکیل کرنے کی اجازت نہیں دے گا )کا قیام ہے کیونکہ اسرائیل نے 1948 میں بیت المقدس کے تحفظ کی یقین دہانی کروا رکھی ہے۔

 اگر اس قرارداد کے حق میں جنرل اسمبلی کے موجودہ صدر’’ وولکان بوزکر‘‘ جن کا تعلق ترکی ہی سے ہے کی صدارت میں جنرل اسمبلی میں پیش کردہ قرارداد کے حق میں 2 تہائی ممالک کی حمایت حاصل ہو جاتی ہے یہ ایک تاریخ ساز قرارداد ہوگی جس کے نتیجے میں اقوام متحدہ ہی کی نگرانی میں بیت المقدس کو ایک محفوظ مقام قرار دیا جاسکتا ہے اور اس کے تحفظ کے لیے مختلف ممالک جن میں پاکستان، ترکی،ایران، ملائیشیا اور انڈو نیشیا بھی شامل ہوسکتے ہیں پر مبنی انٹرنیشنل پروٹیکشن فورس تشکیل دی جاسکتی ہے۔

 یہی ایک واحد طریقہ ہے جس کے ذریعے فی الحال بیت المقدس کو اسرائیل کے ہاتھوں تباہ ہونے سے بچایا جاسکتا ہے ۔ صدر ایردوان قبلہ اول کے تحفظ کے بارے میں کئی بار برملا کہہ چکے ہیں اگر ہم نے قبلہ اول کو نہ بچایا تو پھر خانہ کعبہ ، مدینہ منورہ بھی محفوظ نہیں رہیں گے۔ 

انہوں نے انقرہ میں آق پارٹی کےحالیہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے واشگاف الفاظ میں کہا ہے کہ’’ اسرائیلی ظلم و جبر کےسامنے اگر پوری دنیا بھی خاموشی اختیار کرلیتی ہے تو وہ پھر بھی فلسطینیوں پر ہونے والے ظلم و ستم کے خلاف آواز بلند کرتے رہیں گےکیونکہ اسرائیل نے انسانیت سوزی کی تمام حدیں عبور کر لی ہیں اگر ہم شام میں دہشت گردوں کا راستہ روک سکتے ہیں تو ہم مسجد اقصیٰ کی جانب بڑھنے والے ہاتھوں کو بھی روک سکتے ہیں‘‘۔

انہوں نے فلسطینیوں پر حملوں کو رکوانے کے لیے پہلے دن سے عالمی رہنماؤں سے ٹیلی فونک رابطہ قائم رکھا ہوا ہے۔ صدر ایردوان نے عالمی برادری کو دوٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے بہائے جانے والے خون پر خاموشی اختیار کرنے والوں کو یہ نہیں بھولنا چاہئے اگر انہوں نے آج کچھ نہ کیا تو پھر ان پر بھی ایسا وقت آسکتا ہے۔

 ترکی مشکل وقت میں اپنے بھائیوں کے ساتھ ہے اور جو ممالک اسرائیلی مظالم کے خلاف آواز بلند کرنے سے کترا رہے ہیں وہ بھی اس جرم میں برابر کے شریک ہیں ۔ انہوں نے ایک بار پھر اقوام عالم سے بلا امتیاز اسرائیلی جارحیت کے خلاف متحد ہونے کی اپیل کی ہے۔

What's Your Reaction?

like
0
dislike
0
love
0
funny
0
angry
0
sad
0
wow
0