قتل کی ایک الجھی ہوئی واردات، شواہد پر سزا پانیوالے قاتل کی اسی شواہد پر رہائی کا امکان

جس موبائل فون کے ڈیٹا نے آئرلینڈ میں ایک سفاک شخص کو قاتل قراردے کر سزا دلوائی تھی اب 5 برس بعد اسی فون ڈیٹا تک پولیس کی رسائی مجرم کی باعزت رہائی کا سبب بننے جارہی ہے۔

قتل کی ایک الجھی ہوئی واردات، شواہد پر سزا پانیوالے قاتل کی اسی شواہد پر رہائی کا امکان

آئرلینڈ کے ماہرآرکی ٹیکٹ گراہم ڈوائر نے جب بہلا پھسلا کر ہیلتھ ورکرکو 2012 میں چاقو سے قتل کیا تھا اس وقت وہ مطمئن تھا کہ اسے کوئی نہیں پکڑ سکے گا۔ 

گراہم ڈوائر کے مطمئن ہونے کی وجہ یہ تھی کہ اس نے ایلین او ہارا کی لاش،آلہ قتل، اپنے اور لڑکی کے ٹیلی فون سمیت ہر وہ چیز جوپولیس کو اس کے گھر تک لاسکتی تھی، گہرے پانی میں پھینک دی تھی۔

35 برس کی جس خاتون کو جنسی ہیجان میں مبتلا کرکےآرکی ٹیکٹ گراہم ڈوائرنے قتل کیا تھا اس کی گاڑی اس کی ماں کی قبر کے پاس سے ملی تھی جس سے پولیس یہ سمجھی تھی کہ ذہنی تناؤ کا شکار اور محبت کی متلاشی اوہارا نے قریبی پہاڑی سے سمندرمیں کود کرخودکشی کرلی تھی۔

تاہم اگلے سال موسم گرما میں ریزوائر کا پانی اترا تو کتوں کو چہل قدمی پر لے جانے والے ایک شخص کو انسانی ڈھانچہ اور کچھ دیگر چیزیں نظرآئیں جس پر پولیس نے خاتون کی باقیات اوردو موبائل فون برآمد کیے تھے۔

 فون ڈیٹا سے ملنے والے پیغامات سے یہ واضح ہوا تھا کہ ایک جنسی عمل میں ڈوآئر خود مالک اور مقتولہ کنیزکا کردارادا کررہی تھی۔

پولیس نے موبائل ڈیٹا حاصل کرکے اس کیس کو حل کرلیا تھاجو بظاہر شواہد نہ ہونے کی بنا پر بھلا دیا گیا تھا، مجرم کو عمرقیدکی سزادلوائی گئی تھی۔ 

تاہم اب ڈوائر نے موقف اختیار کیا ہے کہ اس کے فون تک رسائی اوراس کی نجی معلومات کو حاصل کیاجانا یورپی قانون کی خلاف ورزی تھی، اس لیے اسے بری کیا جائے۔ 

آئرلینڈ کی سپریم کورٹ نے معاملہ یورپی یونین کے کورٹ آف جسٹس کے پاس بھیج دیا ہے ۔ 

دوسری جانب لکسمبرگ میں قائم یورپی عدالت پہلے ہی بعض مقدمات میں فیصلہ سنا چکی ہے کہ حکومتیں اور سروس فراہم کرنیوالے اداروں کو یہ حق نہیں کہ وہ شہریوں کے ڈیٹا کو حاصل کرلیں۔

امکان ہے کہ یورپی عدالت ڈوائر ہی کے حق میں فیصلہ دے گی جس کے بعد قانونی اصلاحات نہ کرنے والے آئرلینڈ کے لیے نیا درد سرکھڑا ہوگا۔

What's Your Reaction?

like
0
dislike
0
love
0
funny
0
angry
0
sad
0
wow
0