لائیو: وزیراعظم کو اعتماد کا ووٹ دینے کیلیے قومی اسمبلی میں ووٹنگ جاری

اسلام آباد: قومی اسمبلی میں وزیراعظم عمران خان کو اعتماد کا ووٹ دینے کے لیے ووٹنگ جاری ہے۔

لائیو: وزیراعظم کو اعتماد کا ووٹ دینے کیلیے قومی اسمبلی میں ووٹنگ جاری

اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے ایوان کی کارروائی کا آغاز کیا جس کے بعد شاہ محمود قریشی نے اسپیکر کی اجازت سے وزیراعظم پر اعتماد کے حوالے سے قرارداد پیش کی۔

ایوان میں قرارداد کے بعد اسپیکر قومی اسمبلی نے وزیراعظم کو اعتماد کا ووٹ دینے سے متعلق اراکین کو طریقہ کار بتایا، اسپیکر کی ہدایت کے بعد ایوان میں 5 منٹ تک گھنٹیاں بجائی گئیں اور پھر اسپیکر نے ایوان کے دروازے بند کرنے کا اعلان کیا۔

اسپیکر قومی اسمبلی نے وزیر اعظم کی حمایت میں ووٹ دینے والوں کو دائیں لابی کی طرف جانے کی ہدایت کی جس کے بعد ارکان باری باری جاکر اپنا ووٹ درج کرارہے ہیں۔

اپوزیشن کا بائیکاٹ

قومی اسمبلی کے اجلاس میں حکومتی بینچوں پر حکومت اور اتحادیوں کے 177 ارکان براجمان ہیں جب کہ اپوزیشن نے اجلاس کا بائیکاٹ کر رکھا ہے۔

قبل ازیں وزیراعظم عمران خان جیسے ہی قومی اسمبلی پہنچے تو حکومتی ارکان نے وزیراعظم کے حق میں نعرے بازی کی۔

قومی اسمبلی میں اپوزیشن کے بائیکاٹ کی وجہ سے اپوزیشن کی بینچیں خالی ہیں جس پر حکومتی ارکان نے نوٹوں کے ہار رکھ دیے جب کہ حکومتی ارکان نوٹ کو عزت دو کے پلے کارڈ بھی اپنے ہمراہ لائے ہیں۔

تین وزرائے اعلیٰ کی شرکت

وزیراعظم عمران خان کے مشیر بابر اعوان اور سینیٹ الیکشن میں شکست کھانے والے حفیظ شیخ بھی ایوان میں موجود ہیں جب کہ وزیراعلیٰ کے پی کے، وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیراعلیٰ پنجاب بھی قومی اسمبلی کے اجلاس میں شریک ہیں۔

سکیورٹی سخت

ڈی چوک پر (ن) لیگ اور پی ٹی آئی کارکنان کےد رمیان تصادم کے بعد پارلیمنٹ ہاؤس کی سکیورٹی مزید سخت کردی گئی ہے جب کہ ریڈ زون کو مکمل طور پر سیل کردیا گیا ہے۔

عامر ڈوگر کے عملے کو روک دیا گیا

اس سے قبل پی ٹی آئی کے چیف وہپ عامر ڈوگر کا عملہ ’نوٹ کو عزت دو‘ کے پلے کارڈز لے کر ایوان پہنچا جس پر سکیورٹی گارڈز نے عملے کو پارلیمنٹ میں داخلے سے روک دیا۔

وزیراعظم کو 172 ووٹ درکار

وزیراعظم عمران خان کو 342 کے ایوان میں کامیابی کے لیے 172 ووٹ درکار ہوں گے۔

قومی اسمبلی میں حکومتی اتحاد کے 180 جبکہ اپوزیشن جماعتوں کے 160 ارکان ہیں  اس لیے 10 اِدھر سے اُدھر ہونے یا نہ ہونے پر عمران خان کی وزارتِ عظمیٰ برقرار رہنے کا دارومدار ہے۔

پارٹی ارکان کو ہر صورت اسمبلی اجلاس میں شرکت کی ہدایت

گزشتہ روز عمران خان نے بطور پارٹی چیئرمین پی ٹی آئی کے ارکان قومی اسمبلی کو خط لکھا جس میں کہا گیا ہ دوپہر سوا بارہ بجے ہال اور چیمبر کے دروازے بند ہو جائیں گے، ارکان اس سے پہلے پہلے اسمبلی میں پہنچ جائیں۔

خط میں کہا گیا ہےکہ پارٹی کا جو رکن آج غیر حاضر رہا اس کے خلاف آئین کے آرٹیکل 63 کے تحت ایکشن لیا جا سکتا ہے ، عدم حاضری کی صورت میں رکن کےخلاف نااہلی کی کارروائی شروع کی جائےگی۔ 

حکومتی اتحادیوں کی حمایت کی یقین دہانی

ادھر حکومت کی اتحادی ق لیگ نے عمران خان کواعتمادکا ووٹ دینے کااعلان کردیا جب کہ ایم کیو ایم کے کنوینر خالد مقبول صدیقی حکومت سے دبا دبا شکوہ منظرِ عام پر لے آئے۔

انہوں نے کہا اعتماد کا ووٹ عمران خان کو دیں گے  مگر پی ٹی آئی کو اپنے امیدوار کا اعلان الگ سے نہیں کرنا چاہیے ، چیئرمین سینیٹ کا فیصلہ تمام اتحادیوں کو ساتھ بٹھا کر کرنا چاہیے ۔

What's Your Reaction?

like
0
dislike
0
love
0
funny
0
angry
0
sad
0
wow
0