مغرب۔۔

اسلام مخالف مذاہب یا قوتوں کی اسلام دشمنی کوئی نئی نہیں ہے

مغرب۔۔

مغرب، اسلام مخالف مذاہب یا قوتوں کی اسلام دشمنی کوئی نئی نہیں ہے، احیائے اسلام کے ساتھ ہی اِس دشمنی کا آغاز ہو گیا تھا، روئے زمین پر موجود ہر مذہب نے بھانپ لیا تھا کہ یہی وہ مذہب ہے جو ایک روز روئے زمین سے ہر مذہب کو ملیا میٹ کر دے گا، لہذا سب مذاہب نے دینِ اسلام کو اپنا مشترکہ مخالف جانا اور اُسے صفحہ ہستی سے مٹانے، نیست و نابود کرنے کی کوششوں کا آغاز کیا۔
یوں تو ہر اسلامی مُلک اسلام مخالفین کا ٹارگٹ ہے مگر پاکستان بطورِ خاص اسلام دشمن قوتوں کا نشانہ ہے، پاکستان واحد اسلامی مُلک ہے جو اسلام کے نام پر معرضِ وجود میں آیا، اسلام مخالفین نے تحریکِ آزادی کے دوران ہند کے مسلمانوں کا جذبہ، اُن کی اسلام کے ساتھ جذباتی وابستگی اور مذہبی جوش و خروش دیکھ کر اِس خطہ کے لوگوں کو بطورِ خاص ٹارگٹ کرنے کا فیصلہ کیا۔
پاکستان کے عوام میں مذہبی شدت پسندی، مذہب سے لگاؤ، مذہبی رسومات کی ادائیگی میں جوش و خروش کسی بھی دیگر خطہ کے عوام سے قدرے زیادہ اور انتہا کی حد تک ہے، تمام اسلام مخالف قوتوں کا اِس بات پر اتفاق ہے کہ اگر اسلام کو کمزور یا ختم کرنا ہے تو پاکستان کا وجود کمزور یا ختم کرنا لازمی ہے، پاکستان کے خاتمہ میں ہی دینِ اسلام کا خاتمہ مضمر ہے، دوسرے تمام اسلامی ممالک یا تو پہلے سے ہی انتہائی کمزور و ناتواں ہیں یا وہ مغرب کے لیے اپنے اندر کوئی خطرہ نہیں رکھتے، باقی اسلامی ممالک کی عسکری طاقت بھی پاکستان کے مقابلے میں نہ ہونے کے برابر ہے یا اُن کی طاقت پہلے ہی آسانی سے مفلوج کر دی گئی ہے۔ جیسا مذہبی جذبہ پاکستانی عوام میں ہے ویسا ہی جذبہ فوج میں بھی پایا جاتا ہے اور عوام کے ساتھ ساتھ ہر فوجی بھی مذہب کے نام پر کٹ مرنے کو باعثِ شرف اور اپنے لئے ذریعہ نجات سمجھتا ہے۔
مغربی اقوام نے بطورِ خاص اِن عوامل کا مطالعہ کیا اور یہ نتیجہ اخذ کیا کہ ایسی قوم جس میں مذہبی عنصر کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے کو طاقت کے ذریعے شکست دینا ممکن نہیں، پاکستان کو جغرافیائی لحاظ سے بھی ایڈوانٹیج حاصل ہے کہ اُسے بندوق کے زور پر فتح کرنا مشکل ہے۔
لہذا اِس قوم کو دوسرے طریقوں سے ختم کرنے پر کام شروع کیا گیا، بےشک اِس خطہ کے لوگ مذہبی شدت پسندی رکھتے ہیں مگر بطور انسان مفاد پرستی، لالچ، حرص، منافقت اور فرقہ پرست و حُسن پرست بھی واقع ہوئے ہیں اور مغربی اقوام نے اِنہی بنیادوں پر اِس قوم کو شکست دینے پر بھرپور توجہ دی۔
مُلک میں غدار پیدا کیے گئے، اِن پر انویسمنٹ کی گئی، مغرب میں لے جا کر اُنہیں ٹریننگ دی گئی، عیش و عشرت اور جسمانی تسکین کے بھرپور مواقع فراہم کیے گئے،  معاشرہ میں لالچ، بددیانتی، روپے پیسے کی فراوانی، خود غرضی، منافقت، نوک جھوک اور مذہبی منافرت و فرقہ پرستی کی بھرپور اور وسیع پیمانے پر آبیاری کی گئی، ایک خاص ایجنڈے کے تحت عوام کو غربت کی طرف دھکیلا گیا، غربت کو ایک خاص سطح پر برقرار رکھنے کا سامان پیدا کیا گیا، کرپٹ، بددیانت اور لالچی حکمرانوں کے ذریعے  غریب و مجبور لوگوں کا ناصرف ذہنی استحصال کیا گیا بلکہ اُن کی سوچنے سمجھنے کی قوت و صلاحیت کو مفلوج کیا گیا، فرقہ پرستی و مذہبی منافرت کی بنیادیں مضبوط کی گئیں، سیاسی طور پر لوگوں کو ایک دوسرے کا دشمن بنانے جیسے حالات پیدا کیے گئے، مذہبی مُلاّؤں اور ڈھونگی پیروں فقیروں کے ذریعے عوام کی برین واشنگ کے انتظامات کیے گئے، مذہب سے بیزاری اور مغربی کلچر کو فروغ دیا گیا، این جی اوز اور لبرل آنٹیز کے توسط سے لوگوں کی مذہب سے دوری اور قرآن سے بیزاری کا بندوبست کیا گیا اور
آج صورتِ حال اور نتیجہ آپ کے سامنے ہے کہ قوم عیاش ہو چکی، مذہب سے بیزار ہو چکی، فرقہ پرستی میں بٹ چکی، لسانیت و صوبائی عصبیت میں غرق ہو چکی، قومیت میں مبتلا ہو چکی، بلوچ موومنٹ، پشتون کارڈ اور سندھو دیش و سندھی اجرک جیسی اصطلاحات کے بعد بات جاگ پنجابی جاگ کے نعرے اور پنجابی پَگ پہنانے تک پہنچ گئی، بلوچ لبریشن آرمی کے نوجوانوں، پشتون تحریک کے لیڈروں اور الطاف بھائی جیسے غدارانِ وطن لوگوں کی پشت پناہی کے بعد اب نواز شریف کو نواز بھائی بنانے پر کام شروع کر دیا گیا ہے۔
تمام خرافات قوم و معاشرے میں انجیکٹ کرنے کے ساتھ ساتھ افواجِ پاکستان کے خلاف نفرت پھیلانے، اُسے تمام خرابیوں کا ذمہ دار ٹھہرانے اور فوجی جرنیلوں، جوانوں کو متنازعہ و کرپٹ ثابت کرنے کی مہم بھی بھرپور طریقے سے جاری و ساری ہے۔
آج ہر طرف گالی گلوچ، دھینگا مُشتی، پتھراؤ، لوٹ مار، لاقانونیت، انارکی، صوبائیت، عدمِ استحکام، افراتفری اور سیاسی کھینچا تانی عروج پر ہے۔
   مغرب اور اسلام دشمن قوتوں کے حسبِ منشاء پاکستان لُٹا پڑا ہے اور اسلام و پاکستان دُشمن دور بیٹھا قہقہے لگا رہا ہے۔

What's Your Reaction?

like
0
dislike
0
love
0
funny
0
angry
0
sad
0
wow
0