موت۔۔

موت۔۔
اس کے جوگرز کی دھمک فجر کی خاموشی میں چیخوں کی مانند لگ رہی تھی۔ لیکن وہ اس سب سے بے بہرہ، کانوں میں beats کے ہنیڈزفری میں بجنے والے راک میوزک سے محظوظ ہو رہا تھا جو اس کے خون کو گرما رہے تھے۔ گریجویشن کے فورا بعد گورنمنٹ جاب نے اس کی قسمت اور سوچ دونوں بدل دی تھیں۔ پڑھائ کے لیے، لئے گئے قرضے سے چھٹکارا، ایک اچھا گھر، زندگی اور جلد ہی شادی، ایک کامیاب مستقبل سامنے نظر آ رہا ہو تو اچھا خاصہ انسان بھی شیخ چلی بن ہی جاتا ہے۔۔۔ یہ سب چیزیں اس کے خون کے بہاوء کو تیز کر رہی تھیں۔ سورج مشرق میں ابھی اندھیرے کی چادر سرکانے میں مصروف تھا جس کے باعث گراؤنڈ میں بہت کم لوگ تھے۔
سوچوں کی گہرائ اور راک میوزک کی آواز میں اسے اندازہ ہی نہ ہوا کہ کب دو لوگ اس کا پیچھا کرتے کرتے اس کے سر پہ آ پہنچے تھے۔
"اوے! نکال جو کچھ ہے تیرے پاس"
اس اچانک حملے پہ وہ بھونچکا رہ گیا، ڈر سے اس کی آواز بند ہو گئ تو ایک ڈاکو نے پستول اس کی طرف لہراتے ہوئے کہا، "نکالتا ہے یاں گھسیڑ دوں گولی تیرے اندر؟"
"میں ۔۔۔ تم ۔۔۔ کون ہو تم؟ " وہ بوکھلایا ہوا تھا
ایک ڈاکو نے پستول کا کا دوسرا سرا اس کے سر میں مارا اور اس کی جیب میں ہاتھ ڈالنے لگا۔ اس نے بھی خود کو بچانے کی بھرپور کوشش کی۔
سورج منہ نکالنے تکے لئے پر تول رہا تھا اور دیر نہیں تھی کہ جب گراونڈ میں لوگوں کی آمد شروع ہو کہ اچانک ماحول کو چیرتی ایک گولی کی آواز گونجی اور خون کا فوارہ اس کے جسم سے برآمد ہوا۔ ڈاکو اسے چھوڑ کے وہیں بھاگ گئے۔ اس کا سانس اکھڑنے لگا ۔۔۔ اس کی انگلیاں خون کا بہاوء روکنے میں ناکام تھیں اور موت اسے سامنے نظر آ رہی تھی۔ وہ زمیں پہ گر گیا اور اپنی گزشتہ زندگی کی ٹیپ اس کے سامنے چلنے لگی۔
"میرے ماں باپ" وہ رو رہا تھا
"وہ ۔۔۔ قرضہ ۔۔۔ کیسے۔۔۔ یا اللہ" اس کی ہچکی بندھ گئ
"امی، ۔۔۔ امی مر جائیں گی ۔۔۔ اللہ" اس کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ وہ کیا کہے، کیا کرے
" لا الہ۔۔۔، امی ۔۔۔ امی کو کون سنبھالے گا" وہ کلمہ پڑھتے پڑھتے رک گیا۔
خون کا بہاوء تیز تھا، اور اس بہاوء سے زیادہ تیزی سے اسے اپنی ذمہ داریاں، رشتے اور خواب بہتے نظر آ رہے تھے
"اللہ، بچا ۔۔۔ لے" اس کا سانس اکھڑنے لگا۔
اس کی آنکھیں بند ہو رہی تھیں۔
جسم ڈھیلا پڑنے لگا۔ اس کو جان نکلتی ہوئ محسوس ہو رہی تھی۔۔۔
یہ ہسپتال کا بیڈ تھا، اس کے سرہانے اس کا روم میٹ اونگھ رہا تھا۔ حواس بحال ہوئے تو وہ جھٹکے سے اٹھ بیٹھا اور جسم ٹٹولنے لگا۔ اس کی اچل کود سے اس کے دوست کی آنکھ کھل گئ۔ ڈر اور حواس باختگی کے باعث اس کے پسینے چھوٹنے لگے۔
"وہ گولی ۔۔۔ ڈاکو ۔۔۔" اس نے دوست کو سمجھانے کی کوشش کی۔
"کونسی گولی؟ کون سے ڈاکو؟" اس کے دوست نے خفگی سے پوچھا
"میں یہاں کیسے پہنچا؟" اس نے حواس قابو میں کرتےہوئے پوچھا
"تم خواب میں ڈر گئے تھے، sleep paralysis ہو گیا تھا، آدھی رات کو لانا پڑا تب سے بے ہوش تھے" اس کے دوست نے جواب دیا
وہ بے یقینی کے عالم میں ادھر ادھر دیکھنے لگا۔
صبح کا وقت تھا، وارڈ میں رش کم تھا، سامنے ایک چھوٹا ٹی وی دیوار پہ ایک سٹینڈ میں جھول رہا تھا، کوئ مارننگ پروگرام لگا ہوا تھا شاید۔۔۔ آغاز میں میزبان نے حدیث قدسی پڑھی
"اے ابن آدم، ایک تیری چاہت ہے، ایک میری چاہت ہے۔ اور ہو گا وہی جو میری چاہت ہے۔"
وہ بیڈ پہ ڈھے گیا۔

What's Your Reaction?

like
0
dislike
0
love
0
funny
0
angry
0
sad
0
wow
0