'میجر شبیر کی بہادری سکھاتی ہے کہ تعداد نہیں ایمان اور جرات قوموں کو فتحیاب کرتی ہے'

پاک فوج کی جانب سے نشان حیدر پانے والے شہید میجر شبیر شریف کو خراج عقیدت پیش کیا گیا ہے۔

'میجر شبیر کی بہادری سکھاتی ہے کہ تعداد نہیں ایمان اور جرات قوموں کو فتحیاب کرتی ہے'

سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ڈی جی آئی ایس پی آر کی جانب سے کیے گئے ٹوئٹ میں کہا گیا کہ میجر شبیر شریف شہید کی بہادری حب الوطنی کی علامت ہے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق 65 اور 71 کی جنگوں میں میجر شبیر شریف کی بہادری ہمیں سکھاتی ہے کہ تعداد نہیں بلکہ مشکلات میں ایمان، عقیدت اور جرات قوموں کو فتحیاب کرتی ہے۔

ٹوئٹ میں ڈی جی آئی ایس پی آر کا مزید کہنا تھا کہ 1965 اور 1971 کی جنگوں میں شجاعت کے جوہر دکھانے پر میجر شبیرشہید کون شان حیدر اور ستارہ جرات سے نوازا گیا۔

واضح رہے کہ  نشان حیدر حاصل کرنے والے پاک فوج کے میجر شبیر شریف شہید 28 اپریل 1943ء کو کنجاہ ضلع گجرات میں پیدا ہوئے اور 19اپریل 1964ء کو فوج میں کمیشن حاصل کیا۔

شہید میجر شبیر شریف کو بطور کیڈٹ پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول سے اعزازی شمشیر اور 1965ء کی پاک بھارت جنگ میں ستارہ جرأت سے نوازا گیا، ان کی عمر اس وقت صرف 22سال تھی۔

 بھارت کے خلاف 1971ء کی جنگ میں میجر شبیر شریف نے دشمن کو ایک نہیں کئی مواقع پر پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا، 5 اور 6 دسمبر کی درمیانی رات گھمسان کی جنگ میں میجر شبیر شریف نے بھارت کی 4 جاٹ رجمنٹ کے کمپنی کمانڈر میجر نرائن کو للکارا، دست بد ست لڑ ائی میں اُسے ہلاک کیا اور اہم دستاویزات قبضے میں لے لیں۔

 6 دسمبرکی دوپہر میجر شبیر شریف نے دشمن کا ایک اور حملہ پسپا کیا، اسی دوران دشمن کے ٹینک کا گولہ انہیں لگا اور وہ شہید ہو گئے۔

میجر شبیر شریف کو ان کی بہادری اور شجاعت کے اعتراف میں اعلیٰ ترین فوجی اعزاز نشان حیدر سے نوازا گیا۔ 

میجر شبیر شریف موجودہ آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے بڑے بھائی تھے، میجر شبیر شریف پاک فوج کے واحد آفیسر ہیں جنہیں دو اعزاز ستارہ جرأت اور نشان حیدر سے نوازا گیا ہے۔

What's Your Reaction?

like
0
dislike
0
love
0
funny
0
angry
0
sad
0
wow
0