نیا سال، نئی امیدیں

2020 کا آخری سورج ڈوبتے ہی پتا نہیں کیوں دل بھی ڈوب سا گیا۔ ایک بے نام سی اداسی چھا گئی۔ بلاشبہ 2020 پوری دنیا کےلیے بڑی آزمائشوں کا سال تھا۔ کورونا کا عفریب لاکھوں بے گناہوں کو کھا گیا۔ کروڑوں آج بھی اس کے ساتھ زندگی اور موت کی جنگ لڑنے میں مصروف ہیں۔ بڑی بڑی سپر پاورز کہلانے والی حکومتوں کی معیشت پلک جھپکتے میں زمیں بوس ہوگئی، جس کے نتیجے میں کام، کاروبار اور دفاتر بند ہوئے تو کروڑں لوگ بے روزگار ہوگئے۔

نیا سال، نئی امیدیں

اگر گزشتہ سال کو ایک مرتبہ Rewind کرکے اس کی فلم اپنے ذہن کے پردے پر چلائیں تو یقینی طور پر اعصاب شل ہوجائیں گے۔

نئے سال کے موقع پر میں مبارکباد وغیرہ کے پیغامات بھیجنے میں عام طور پر سست اور بخیل واقع ہوئی ہوں، لیکن اس مرتبہ نہ جانے کیا دل میں آئی کہ میں نے موبائل اٹھایا اور ایک جاندار سا حوصلہ افزا پیغام گزشتہ سال کے شکریے اور نئے سال کی مبارکباد کے ساتھ اپنی تمام تر لسٹ کو بھیج دیا۔

دسمبر تو ویسے بھی ہمیشہ سے اداس کردینے والا مہینہ رہا ہے اور اس آخری سورج کے ڈوبنے کے ساتھ پتا نہیں کتنے دل ڈوب رہے ہوں گے اور جتنی حوصلہ افزائی کی ضرورت اس سال ہمیں ہے، شاید اس سے پہلے کبھی نہ تھی۔

کورونا کے دوران مجھے پاکستان میں اپنے لوگوں کے ساتھ پیش آنے والی مشکلات سے ہرگز انکار نہیں، لیکن آپ لوگ جو اپنے اپنے گھروں میں، اپنے پیاروں کے درمیان، اپنے وطن کی مٹی کی خوشبو کے ساتھ موجود ہیں، ان کےلیے تو پھر بھی کچھ نہ کچھ ریلیف تھا کہ وہ ان سخت ترین حالات کا مقابلہ کرسکیں۔ لیکن ایک لمحے کےلیے پردیس میں پھنسے اپنے ان ہم وطنوں کا خیال ذہن میں لائیے، جو دو وقت کی حلال روزی کےلیے گھر سے بے گھر ہوئے۔ کورونا کے دوران جن کی ملازمتیں چلی گئیں۔ فلائٹس بند ہوئیں تو وہ واپس بھی نہ جاسکے۔ ویزے ختم ہوگئے۔ گھروں اور فلیٹس کے کرایے سر پر آگئے۔ روٹی، پانی، ہوا، بجلی، چھت… سب کے اخراجات۔ اوپر سے نہ کوئی دوست احباب، رشتے دار جو حوصلہ بڑھا سکے، اُمید دِلا سکے، ہمت بندھا سکے، دلاسہ اور ایک تھپکی دے سکے کہ ’’ہمت مت ہارو، سب ٹھیک ہوجائے گا‘‘۔

یقین کیجئے پردیس میں موجود لوگوں کے حالات اس سے بھی زیادہ خراب تھے۔ میں نے بڑے بڑے کڑیل جوانوں کو پھوٹ پھوٹ کر روتے دیکھا۔ انٹرنیٹ پر آپ کو ایسی کئی ویڈیوز مل جائیں گی۔ ایک نوجوان نے جب نوکری چلے جانے کے بعد اپنے حالات بتائے تو میں نے کہا تم گھر کیوں نہیں چلے جاتے؟ ان حالات میں کم از کم اپنوں کے درمیان تو ہوگے؟ اس پر وہ بولا آپ ٹھیک کہہ رہی ہیں۔ میں بھی گھر جانا چاہتا تھا لیکن گھر والوں نے کہا کہ بیٹا مت آنا، ابھی تو وہ قرضہ بھی نہیں اُترا جو ادھار لے کر تمہارے ویزہ اور ٹکٹ کا بندوبست کیا تھا۔

قارئین! پاکستان میں تو پھر چھت ہمارے سر پر ہوتی ہے، اپنا ملک، اپنے لوگ اور ان گنت آسانیاں، جن کے بارے میں ہم نے کبھی سوچا ہی نہیں۔ لیکن یہاں تو ہم ایک ایک سانس کےلیے ادائیگی کرتے ہیں۔ اس کے باوجود ہم ہمت نہیں ہارتے، ایک دوسرے کا حوصلہ بڑھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایک صحافی اور قلمکار ہونے کے ناتے میری کوشش رہی کہ میں جتنا بھی ہوسکے ان شدید ترین حالات میں بھی لوگوں کی رہنمائی کرسکوں۔ ذہنی اور جذباتی طور پر شکستہ لوگوں کی کاؤنسلنگ کرسکوں۔ انہیں سمجھا سکوں کہ ’’گرنا نہیں… نہ معیار سے، نہ تھک کر اور نہ ہار کر‘‘۔ حالانکہ مجھے خود بھی اسی طرح کی توانا حوصلہ افزائی کی ضرورت ہوتی تھی۔

آپ تو پھر خوش قسمت ہیں کہ اپنے ملک میں اپنے پیاروں کے ساتھ ہیں، تو پھر آپ کیوں مایوس ہیں؟ آپ کے دل کیوں ڈوب رہے ہیں؟ یاد رکھیے! رات جتنی مرضی طویل ہو، آخر اس کی ایک صبح ضرور ہوتی ہے۔ حبس جب حد سے بڑھ جاتا ہے تو بارش ہوتی ہے اور تقدیر محنت کرنے والوں کا معاوضہ ہرگز نہیں روکتی۔

آگے بڑھیے۔ اپنی غلطیوں کا اعتراف کیجئے۔ اپنی ناکامیوں کا الزام دوسروں پہ دھرنے کے بجائے بہادری سے اپنا محاسبہ کیجئے۔ حقائق کو قبول کیجئے۔ گزرے وقت کو، حالات کو اور گزرے سال کو کوسنے کے بجائے نئے سال کو نئی امید، نئے عزم اور نئے حوصلے کے ساتھ خوش آمدید کہیے۔ اگر آپ منزل پر پہنچنا چاہتے ہیں تو راستے میں بار بار رک کر پیچھے دیکھنا چھوڑ دیجئے۔ یہ بھی یاد رکھیے کہ حقیقی کامیابی تک پہنچنے کےلیے کوئی لفٹ موجود نہیں ہوتی، ہمیں ہمیشہ سیڑھیاں چڑھنا پڑتی ہیں۔ جتنا آپ کے بس میں ہے وہ تو کیجئے۔ اپنا اور اپنے قریبی رشتوں کا حق ادا کیجئے۔ ایک اچھا شہری ہونے کا فرض نبھائیے۔

خدا کرے آنے والا یہ سال ہم سب کی زندگیوں میں خوشیوں کی نوید لے کر آئے۔ (آمین

What's Your Reaction?

like
0
dislike
0
love
0
funny
0
angry
0
sad
0
wow
0