وزیر داخلہ اعجاز شاہ کی تقریر تنبیہ تھی یا دھمکی، سوشل میڈیا پر بحث

پاکستان کی سیاست میں آج کل درجہ حرارت عروج پر ہے، ایک جانب اپوزیشن جماعتوں کا اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) حکومت اور ملک کی فوجی سربراہان کو تنقید کا نشانہ بنا رہی ہے تو جواب میں وزیر اعظم سمیت وزرا اور حکومتی ترجمان اپنے جوابات دے رہے ہیں

وزیر داخلہ اعجاز شاہ کی تقریر تنبیہ تھی یا دھمکی، سوشل میڈیا پر بحث

اس تمام تر سیاسی صورتحال میں آئے روز ملک کی سیاسی قیادت کوئی نہ کوئی ایسا بیان داغ دیتی ہے کہ نہ صرف روایتی میڈیا پر سوشل میڈیا پر بھی اس بارے میں بحث و تبصرے کا آغاز ہو جاتا ہے۔

چند روز قبل مسلم لیگ ن کے رہنما اور سابق سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کے انڈین پائلٹ ابھینندن کی رہائی کے بارے میں پارلیمان میں دیے گئے بیان اور اس کے جواب میں وفاقی وزیر سائنس کے بیان پر اٹھنے والا طوفان ابھی تھما نہیں تھا کہ سنیچر کو پاکستان کے وزیر داخلہ بریگڈیئر (ر) اعجاز شاہ نے ایک عوامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایک ایسا نیا بیان دے دیا ہے۔

وزیر داخلہ بریگڈیئر (ر) اعجاز شاہ نے ایک عوامی تقریب میں تقریر کے دوران مسلم لیگ ن کے سیاسی بیانیے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخواہ کی سیاسی جماعت عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کی قیادت پر قاتلانہ حملے ان کے دہشت گردی کے خلاف بیانات پر طالبان کے ردعمل میں ہوئے تھے، اسی وجہ سے بلور خاندان اور میاں افتخار کے بیٹے کو ہلاک کیا گیا، جو لوگ مسلم لیگ ن کے بیانیے کے ساتھ ہیں انھیں بھی خطرہ ہے۔‘

تقریر کے دوران ان کا مزید کہنا تھا کہ ’جو اپنی فوج کے متعلق بات کرتا ہے اسے سرحد کے پاس امرتسر چھوڑ آنا چاہیے۔‘

What's Your Reaction?

like
0
dislike
0
love
0
funny
0
angry
0
sad
0
wow
0