وفاقی کابینہ نے’’کسٹریشن قانون‘‘ فوری نافذ کرنے کی منظوری دے دی

بچوں اور خواتین سے زیادتی کے ملزمان رعایت کے مستحق نہیں، کسٹریشن کی سزا کیلئےعالمی اداروں سے رائے لینے یا آمادگی کی ضرورت نہیں۔ وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت کابینہ اجلاس میں اتفاق

وفاقی کابینہ نے’’کسٹریشن قانون‘‘ فوری نافذ کرنے کی منظوری دے دی

 وفاقی کابینہ نے’’کسٹریشن قانون‘‘ فوری نافذ کرنے کی منظوری دے دی، کابینہ اجلاس میں اتفاق کیا کہ بچوں اور خواتین سے زیادتی کے ملزمان رعایت کے مستحق نہیں، کسٹریشن کی سزا کیلئےعالمی اداروں سے رائے لینے یا آمادگی کی ضرورت نہیں۔ تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا، اجلاس میں ملک کی سیاسی ، معاشی اور کورونا پھیلاؤ کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں ایجنڈے میں شامل متعدد نکات کی منظوری دی گئی۔ کابینہ اجلاس میں بچوں اورخواتین سے زیادتی کے کیسز میں کسٹریشن کی سزا پر دوبارہ بحث کی گئی۔ کابینہ ارکان نے اتفاق کیا کہ کسٹریشن کی سزا کیلئےعالمی اداروں سے رائے لینے یا آمادگی کی ضرورت نہیں۔

 ارکان نے رائے دی کہ بچوں اور خواتین سے زیادتی کے ملزمان رعایت کے مستحق نہیں۔

وزیراعظم نے کابینہ کے آئندہ اجلاس میں گیس کی قلت اور قیمتوں پر بریفنگ مانگ لی ہے۔ کابینہ کو موسم سرما کے دوران گیس کی فراہمی کی صورتحال پر بریفنگ دی گئی۔ وفاقی کابینہ نے کہا کہ برآمدی شعبے اور گھریلوصارفین کیلئے گیس فراہمی اولین ترجیح ہوگی۔ لوڈ مینجمنٹ کے تحت پہلے مرحلے میں سی این جی اسٹیشن کو سپلائی بند ہوگی۔ اجلاس میں وزیراعظم اور کابینہ ارکان نے کورونا کی صورتحال پر اظہار تشویش کیا۔

عمران خان نے کہا کہ پی ڈی ایم کو عوام کی زندگیوں کی کوئی پروا نہیں ہے، کورونا تیزی سے پھیل رہا ہے اور یہ لوگ جلسے کررہے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان نے ہدایت کی ہے کہ کورونا ایس اوپیز پر سختی سے عملدرآمد کیا جائے۔ ایس اوپیز کے معاملے میں کسی صورت غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔ ماسک کی پابندی ہرصورت کروائی جائے۔ اس موقع پر وفاقی کابینہ نے کورونا ویکسین خریدنے کی منظوری دی اور کورونا وائرس ویکسین کیلئے 15کروڑ ڈالر مختص کردیے ہیں۔

پہلے مرحلے میں ہیلتھ ورکرز اور 65 سال سے زائد عمر کے افراد کو ویکسین دی جائے گی۔ کورونا کے علاج کیلئے انجکشن کی قیمت بھی کم کردی گئی ہے۔ ویکسین کیلئے مختلف کمپنیز کو شارٹ لسٹ کیا گیا ہے۔ نیا پاکستان ہاؤسنگ، راوی ریور اور بنڈل آئی منصوبے بنانے پر اتفاق کیا گیا۔ کابینہ نے کہا کہ تینوں منصوبے پاکستان کی تعمیروترقی اور خوشحالی کے ضامن ہیں، اجلاس میں پی ڈی ایم کے جلسوں پر مشاورت کی گئی، بعض وزراء نے کہا کہ پنجاب حکومت نے پی ڈی ایم کے جلسے کے حوالے سے کمزوری دکھائی، پکڑ دھکڑ اور رکاوٹیں کھڑی کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔

اگر گرفتاریاں کرنی تھیں تو پھرمصلحت کی ضرورت نہیں تھی۔موجودہ حالات میں جلسے قوانین کی خلاف ورزی ہیں، اپوزیشن کے جلسوں سے مزید کورونا وائرس پھیلے گا۔کابینہ میں اسٹیل ملز کی نجکاری اور ملازمین کو گولڈ ہینڈ شیک دینے کی منظوری بھی دی گئی۔اجلاس میں نئی ایئرلائن سیال کے لائسنس کی منظوری دے دی گئی ہے۔

What's Your Reaction?

like
0
dislike
0
love
0
funny
0
angry
0
sad
0
wow
0