پہلی مرتبہ اے ایل ایس مرض میں مفید دوا دریافت

ایمٹروفِک لیٹرل سِکلوریسِس یا اے ایل ایس کا مرض دماغ پر اثرانداز ہوتا ہے اور دھیرے دھیرے انسان حرکات و سکنات اور بولنے سے بھی قاصر ہوجاتا ہے۔ اس کا دوسرا نام موٹرنیورون ڈیزیز بھی ہے جو اب تک لاعلاج بیماری تھا لیکن اب ایک نئے مرکب (کمپاؤنڈ) سے ہمیں امید کی نئی کرن ملی ہے۔

پہلی مرتبہ اے ایل ایس مرض میں مفید دوا دریافت

نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے دنیا کا پہلا مرکب دریافت کیا ہے جو حرکت کی وجہ بننے والے اعصابی خلیات (نیورونز) کی خرابی کو روکتا ہے۔ اعصاب متاثر ہونے سے اے ایل ایس کا مرض شدت اختیار کرتا ہے اور دھیرے دھیرے مریض جامد ہوکر موت کے منہ تک پہنچ جاتا ہے۔

اے ایل ایس میں جسمانی حرکات قابو کرنے والے تمام اعصاب تنزلی کے شکار ہوجاتے ہیں اور انہیں ٹھیک کرنے کی کوئی دوا یا علاج اب تک ہمارے پاس نہیں ہے۔ اس ضمن میں جامعہ کے شریک پروفیسر ہینڈے اوزنلر کہتے ہیں کہ ’ ہم نے پہلا مرکب دریافت کیا ہے جوبیمار ہونے والے اوپری موٹرنیورون کو تندرست کرسکتا ہے۔ یہ تحقیق اب شائع بھی ہوچکی ہے۔

این یو 9 نامی ایک مرکب تجربہ گاہ میں بنایا گیا ہے۔ یہ اہم خلیات کی تشکیل کے دوران غلط قسم کی پروٹین فولڈنگ کو کم کرتا ہے۔ یہ مرکب ایک تو بے ضرر اور غیرزہریلا ہے اور دوسری جانب دماغ اور خون کی رکاوٹ (بلڈ برین بیریئر) عبور کرسکتا ہے۔

این یو 9 دو طرح سے کام کرتی ہے یعنی پروٹین کی غلط فولڈنگ کو روکتی ہے اور پروٹین کو لہو کے لوتھڑے بننے سے باز رکھتی ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ جب پروٹین درست انداز میں مرتب نہیں ہوتے تو وہ زہریلے ہوجاتے ہیں۔ اسی طرح انسانی دماغ میں یہ شدید نقصان کی وجہ بنت ہیں۔ اس طرح ٹی ڈی پی 43 پروٹین کو متاثر کرتے ہیں۔ اے ایل ایس کے 90 فیصد معاملات میں ٹی ڈی پی 43 پروٹین متاثرہوتا ہے اور اعصابی تنزلی کی وجہ بنتا ہے۔

اس کیمیکل کوچوہوں پر استعمال کیا گیا تو ان میں متاثرہ نیورون دوبارہ صحتمند ہونے لگے اور اس کا اظہار چوہوں میں بھی دیکھا گیا ہے۔ تحقیق کے اگل مرحلے میں اس کیمیکل کے مزید پہلوؤں پر غور کیا جائے گا۔

What's Your Reaction?

like
0
dislike
0
love
0
funny
0
angry
0
sad
0
wow
0