پی آئی اے کی تاریخ میں پہلی بار افسران کی بڑی تعداد کا اچانک اسلام آباد ٹرانسفر

پاکستان انٹرنیشنل ائیرلائنز (پی آئی اے) کی تاریخ میں پہلی بار افسران کی سب سے بڑی تعداد کا اچانک کراچی سے اسلام آباد ٹرانسفر کردیا گیا۔

پی آئی اے کی تاریخ میں پہلی بار افسران کی بڑی تعداد کا اچانک اسلام آباد ٹرانسفر

دوسری جانب موہن جودڑو ائیرپورٹ اور لاڑکانہ شہر میں موجود آفس کے سوا اندرون سندھ پی آئی اے کے تمام دفاتر بند کردیے گئے ہیں، ان شہروں کے ملازمین کا پہلے کراچی اور اب اسلام آباد ٹرانسفر کردیا گیا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ سکھر شہر جہاں مستقل پروازیں ہیں وہاں پی آئی اے آفس بند کردیا گیا جبکہ موہن جودڑو ائیرپورٹ لاڑکانہ کیلئے کوئی پرواز نہیں لیکن وہاں آفس کھلا ہے۔

ذرائع کے مطابق اچانک ٹرانسفر کے احکامات ملنے پر افسران شدید بے چینی اور مایوسی کا شکار ہیں ، ان افسران میں خواتین کی بھی بڑی تعداد شامل ہے جو کراچی میں مستقل طور پر آباد ہیں  اور ان کے بچے بھی یہیں زیر تعلیم ہیں۔

بعض پی آئی اے افسران کی اہلیہ یا شوہر دیگر اداروں میں ملازمن ہیں اس لیے ٹرانسفر کے باعث ان خاندانوں کے تقسیم ہونے کا خدثہ ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں افسران کو ٹرانسفر کرنے کا مقصد یہ کہ ہے انہیں زیادہ سے زیادہ پریشان کیا جائے  تاکہ زیادہ سے زیادہ افسران پی آئی اے انتظامیہ کی گولڈن ہینڈ شیک اسکیم کو جبری طور قبول کرلیں۔

دوسری جانب پی آئی اے ترجمان کا کہنا ہے کہ فلائٹ آپریشن کا بڑا حصہ شمال میں اسلام آباد اور لاہور منتقل ہوگیا ہے اس لیے افسران کا تبادلہ اسلام آباد کیا گیا ہے۔

 واضح رہے کہ پی آئی اے کا ہیڈ آفس کراچی میں ہے  اور کراچی سے ہیڈ آفس کسی اور جگہ منتقل کرنے کیلئَے قومی اسمبلی سے قانون سازی کرانی ہوگی۔

ذرائع کے مطابق شعبہ مارکیٹنگ کے 450 افسران کو 28 دسمبر تک اسلام آباد منتقل ہونے کے احکامات دیے گئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق پی آئی اے کا ہیڈ آفس کراچی میں ہے جبکہ شعبہ مارکیٹنگ کا بڑا حصہ اسلام آباد منتقل کردیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ 22 جنوری 2019 کو وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت ہونے والے اجلاس میں پی آئی اے کا ہیڈ آفس اسلام آباد منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا جس کی وجہ ہوابازی ڈویژن کا اسلام آباد میں ہونا ہے۔

What's Your Reaction?

like
0
dislike
0
love
0
funny
0
angry
0
sad
0
wow
0