پی ڈی ایم تحریک کے پیچھےکون ہے۔۔ ؟

پی ڈی ایم تحریک کے پیچھےکون ہے۔۔ ؟
پی ڈی ایم تحریک کے پیچھے کون ہے ؟ آئیے اس کی ٹائم لائن کا جائزہ لیتے ہیں
نومبر 2019 میں نوازشریف کو لندن اس شرط پر بھیجا گیا کہ وہ وہاں صرف اپنا علاج کروائے گا، پاکستان کے خلاف کوئی سازشیں نہیں کرے گا۔ لیکن
نوازشریف نے جنوری میں حامد کرزئی سے ملاقات کی اور اسے کہا کہ وہ امریکہ میں اس کے لیے لابنگ کرے کہ افغانستان میں امن کے لیے میں ضروری ہوں کیونکہ موجودہ حکومت اور پاک فوج امریکہ کے ساتھ ڈبل گیم کر رہی ہے، یہ لوگ کبھی افغانستان میں امن نہیں ہونے دیں گے
اس کے بعد فروری کے مہینے میں نوازشریف کی امریکہ اور برطانیہ کی خفیہ ایجنسیوں کے نمائندوں سے چھ ملاقاتیں ہوئیں۔ ان ملاقاتوں کے بعد نوازشریف کو تقویت ملی اور حالات تبدیل ہوتے گئے۔
مارچ تک نوازشریف اور مریم صفدر بالکل خاموش تھے۔ پھر اچانک سے یہ لوگ کھل کر بولنے لگے کیونکہ بین الاقوامی لابی اپنا کام کر رہی تھی
اگست میں عمران خان نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا کہ میں اسرائیل کو کبھی تسلیم نہیں کروں گا کیونکہ اگر میں اسرائیل جیسی ناجائز ریاست کو تسلیم کرتا ہوں تو میں اپنے اللہ کو کیا منہ دکھاؤں گا۔ اس بیان کو بھارت سے اسرائیل تک ہر جگہ بہت زیادہ کوریج ملی اور اسرائیل میں اس بیان کے بعد عمران خان کی حکومت کو ہٹانے کا عزم کر لیا گیا
اگست میں شاہ محمود قریشی نے سعودی عرب کے خلاف بیان دیا کہ اگر تم لوگ کشمیر کی آزادی کے لیے بات نہیں کرو گے تو ہم نیا اسلامی بلاک بنانے پر مجبور ہو جائیں گے۔ جس کے بعد سعودیہ میں بھی عمران خان حکومت کے خلاف ایک لہر اٹھ گئی۔ اسی لیے نوازشریف ہر تقریر میں سعودیہ کی حمایت کرنا نہیں بھولتا تا کہ ان کی حمایت لے سکے۔
ستمبر میں لندن میں نوازشریف کی ملاقات بھارتی ملٹری اتاشی کے ساتھ ہوتی ہے اور اس کے بعد پی ڈی ایم کی تحریک جنم لیتی ہے
اب آپ دیکھیے کہ یہ تحریک ایک دن میں نہیں بنی بلکہ اس کے پیچھے نو مہینوں کی سازشیں ہیں، جس کے بعد اس ناجائز اور ریاستی دہشت گرد تنظیم پی ڈی ایم نے جنم لیا۔ یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ پی ڈی ایم جیسی دہشت گرد تنظیم نے پاکستان مخالف سازشوں کی کوکھ سے جنم لیا ہے
اس تحریک کے پیچھے پاکستان، افواجِ پاکستان اور عمران خان کے سبھی دشمن ایک پیج پر آ گئے ہیں۔ فرنٹ پر پی ڈی ایم ہے، جس کو پاکستان کے سب سے بڑے چور نوازشریف، زرداری اور فضلو رحمان لیڈ کر رہے ہیں اور پیچھے امریکہ، برطانیہ، اسرائیل، بھارت، افغانستان اور سعودی عرب موجود ہیں اور وہی اس ساری تحریک کی فنڈنگ بھی کر رہے ہیں۔
رواں مہینے اکتبوبر میں ہی بھارتی ڈیفنس سیکرٹری اجے دوول نے ایک متنازعہ بیان دیا کہ ہم باہر لڑائی نہیں کریں گے، ہم اندر جنگ کریں گے۔ جس کا واضح مقصد پاکستان کے اندر دہشت گردی کروانا اور پاکستان کو اندر سے کھوکھلا کرنا ہے اور بھارتی میڈیا دو ہفتے سے یہ خبریں دے رہا ہے کہ پاکستان میں ایک سول وار چھڑ چکی ہے
اب ذرا دیکھیے کہ جیسے ہی پی ڈی ایم تحریک زور پکڑتی گئی، پاکستان میں دہشت گردی کی ایک نئی لہر نے سر اٹھانا شروع کر دیا۔ آج پشاور میں اس دہشت گردی کا چوتھا واقعہ ہو رہا ہے۔ یہ سب کچھ محض اتفاق نہیں ہے۔ یہ ایک طویل اور سوچی سمجھی منصوبہ بندی ہے جس کے لیے نوازشریف نے ساری دشمن طاقتوں کو اپنے ساتھ کر لیا ہے اور انہی لوگوں کی مسلسل لابنگ کی وجہ سے آج ہم ان حالات میں پہنچ گئے ہیں۔
یاد رکھیں، فوج صرف دہشت گردوں کو تو ختم کر سکتی ہے لیکن سیاسی اور معاشی دہشت گردوں کو صرف عوام ہی ختم کر سکتی ہے۔ ہر پاکستانی ذی شعور انسان سے گزارش ہے کہ اس وقت ان چوروں اور سیاسی دہشت گردوں کو بائیکاٹ کر دیں۔ ان دو ٹکے کے لوگوں کو آپ کے ووٹ نے ہی عفریت بنایا ہے، اب یہ آپ پر لازم ہے کہ آپ ان بدمعاش سیاست دانوں کو ریجیکٹ کر دیں اور اپنی افواج پر ناصرف بھروسہ رکھیں بلکہ اس کی فل سپورٹ کریں۔
یاد رکھیں افواج ہیں تو ہم ہیں، افواجِ پاکستان ہی پاکستان کی بقاء کی ضامن ہیں ۔۔۔۔ !!

What's Your Reaction?

like
0
dislike
0
love
0
funny
0
angry
0
sad
0
wow
0