ڈینئل پرل قتل کیس: عمر شیخ کی نظربندی کے حکم امتناع میں ایک دن کی توسیع

سپریم کورٹ نے امریکی صحافی ڈینئل پرل قتل کیس کے ملزم کی رہائی سے متعلق سندھ حکومت کی نظر ثانی کی درخواست پر عمر شیخ کی نظر بندی کے حکم امتناع میں ایک دن کی توسیع کر دی۔

ڈینئل پرل قتل کیس: عمر شیخ کی نظربندی کے حکم امتناع میں ایک دن کی توسیع

ڈینئل پرل قتل کیس کے ملزم عمر شیخ کی رہائی کے فیصلے کے  خلاف سندھ حکومت کی نظر ثانی درخواست پر سماعت سپریم کورٹ کے جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کی۔

عمر شیخ کے وکیل کا کہنا تھا کہ احمد عمر شیخ بے گناہ ہے، جو ڈینئل پرل قتل کیس میں ملوث تھے ان کو چھوڑ دیا گیا، امریکی دباؤ میں آکر غلط بندے کو پکڑا گیا، احمد عمر شیخ نے برطانیہ سے قانون کی ڈگری پاس کی، اگر وہ جیل میں نہ ہوتا تو مجھ سے اچھا وکیل ہوتا۔

جسٹس سجاد علی شاہ نے استفسار کیا ہمیں بتائیں عمر شیخ کی حراست کا حکم کب ختم ہوا؟ جس پر معاون وکیل عمر شیخ نے بتایا کہ یکم دسمبر 2020 کو حراست کا حکم ختم ہو گیا تھا۔

اٹارنی جنرل نے بتایا کہ سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کے تحت وفاق کو نوٹس دیا جانا ضروری ہے، عمر شیخ کی رہائی کا فیصلہ معطل نہیں ہوا تو اس کے سنگین نتائج ہوں گے، ڈینئل پرل قتل کیس کے ملزمان کی رہائی کے مقدمے کے عالمی اثرات ہوں گے۔

جسٹس سجاد علی شاہ نے اٹارنی جنرل سے کہا کہ آپ تو کیس میں فریق ہی نہیں ہیں، ہم نے تو مقدمہ عمر شیخ کے وکیل کو سننے کے لیے مقرر کیا ہے۔

جسٹس عمرعطا بندیال نے کہا کہ ایک شہری کو کیوں حراست میں رکھا ہوا ہے؟

عدالت نے اٹارنی جنرل کو نوٹس کرنے یا نہ کرنے سے متعلق جائزہ لینے کے لیے آرڈر شیٹ کا ریکارڈ طلب کر لیا جبکہ اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ وفاق کو مقدمے میں نوٹس جاری نہیں ہوا۔

سپریم کورٹ نے عمر شیخ کی نظربندی کے حکم امتناع میں ایک دن کی توسیع کرتے ہوئے سندھ ہائیکورٹ سے مقدمے کا تمام ریکارڈ طلب کر لیا اور اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کیس کی سماعت کل تک ملتوی کر دی۔

What's Your Reaction?

like
0
dislike
0
love
0
funny
0
angry
0
sad
0
wow
0