کچھ بھی نہ تھا، غلام تو تھا

لوگ جنازے کے مناظر دیکھ چکے، لاکھ نہیں لاکھوں افراد شریک تھے۔ نہ وہ کبھی حکمران رہا، نہ اُس کے پاس دولت کے ڈھیر تھے، پندرہ ہزار روپے ماہوار تنخواہ کا روادار، محض ڈیڑھ مرلے کے مکان میں رہنے والا، نہ سیاست دان تھا، نہ دولت کا پجاری، مختصر یہ کہ کچھ بھی نہ تھا مگر وہ حضورؐ کا غلام تو تھا۔ اِسی غلامی نے اُس کی شان بڑھائی۔

کچھ بھی نہ تھا، غلام تو تھا

محبوبِ خدا کی غلامی سے بڑھ کر کوئی غلامی ہو ہی نہیں سکتی کیونکہ یہی غلامی روشنی کا سفر ہے۔ علامہ خادم حسین رضوی نے اِسی غلامی کا درس دیا، اِسی غلامی میں وہ رخصت ہوئے۔

پاکستان کی تاریخ میں سب سے بڑے جنازے کے مناظر دیکھنے والوں کے لئے ایک سوال بڑا اہم ہے کہ اِس جنازے میں شرکت کرنے والوں کے لئے نہ کسی نے ٹرانسپورٹ کا بندوبست کیا، نہ قیمے والے نان آئے اور نہ ہی بریانی کی دیگیں اُتاری گئیں مگر غلامیٔ رسولؐ نے کیا مناظر دکھا دیے کہ گریٹر اقبال پارک بھر گیا.

شاہی مسجد کھولنا پڑی، شاہی قلعے پر بھی لوگ تھے، پل بھر چکے تھے، سڑکوں پر جمِ غفیر تھا، میت کو جنازے کی جگہ تک پہنچانے میں چار گھنٹے لگ گئے، راستے میں طلبہ، وکلاء اور مختلف طبقات کے افراد نے گل پاشی کی۔

ضلع اٹک کی تحصیل پنڈی گھیب کا رہنے والا خادم حسین رضوی کسی بڑے عالمِ دین کا فرزند نہیں تھا، نہ ہی کسی درگاہ کا گدی نشین، بس حافظِ قرآن تھا، شیخ الحدیث تھا، عشقِ نبیؐ میں مبتلا غلام تھا.

خطابت کے جوہر سے خوب واقف تھا، تقریروں میں پنجابی اور فارسی کا تڑکہ لگاتا تھا، عشقِ نبیؐ کی لہروں پر لہو گرماتا تھا، اقبالؒ اُسے ازبر تھا، اُس نے نوجوان نسل تک قلندرِ لاہوری علامہ اقبالؒ کے کلام کو پہنچانے کی بھرپور کوشش کی، وہ کلامِ اقبالؒ کے ذریعے عشقِ نبیؐ کی وسعتیں بیان کرتا۔

یہی اُس کا خاصہ تھا، وہ تو مکی مسجد میں اوقاف کی ملازمت کرتا تھا پھر ملکی پارلیمنٹ میں اک ایسی ترمیم آئی کہ وہ چپ نہ رہ سکا۔

نوکری چلی گئی مگر غلامی نہیں گئی پھر وہ اِسی غلامی میں مست رہنے لگا، اُس نے سرکاری نوکری کے بعد غلامیٔ رسولؐ میں چار برس ایسے لگائے کہ لبیک یارسول ﷲ کا نعرہ اُس سے منسوب ہو گیا، وہ گفتگو میں کڑوی باتیں کر جاتا تھا، جذبات میں کڑواہٹ تھی مگر قرآن پڑھتا تو حلاوت گھول کے رکھ دیتا، حدیث بیان کرتا تو کئی پہلو اُجاگر کر دیتا۔

خطاب کرتا تو دِلوں کو تسخیر کرتا چلا جاتا۔ جذبے اور تاثیر کے سنگم پر سحر طاری کر دیتا، کلامِ اقبالؒ پڑھتا تو کھول کھول کے وضاحتیں کردیتا، مغرب سے متعلق اُس کے خیالات وہی تھے جو علامہ اقبال ؒکے تھے، جیسے اقبال ؒ نے کہا کہ

خیرہ نہ کر سکا مجھے جلوۂ دانشِ فرنگ

سرمہ ہے میری آنکھ کا خاکِ مدینہ و نجف

محض 54سال کی عمر میں وفات پانے والا خادم حسین رضوی حرمتِ رسولؐ پر خاموش رہنے والوں کو کوستا رہا، خاص طور پر مسلمان حکمرانوں کو ہدفِ تنقید بناتا رہا، اُس کا ایک ہی اصرار تھا کہ غلامیٔ رسولؐ میں آ جاؤ شاید وہ اِسی لئے اکثر کہا کرتا تھا کہ

یہ تو طیبہ کی محبت کا اثر ہے ورنہ

کون روتا ہے لپٹ کر درو دیوار کے ساتھ

علامہ خادم حسین رضوی کا ایک ہی مشن تھا، اُنہوں نے لوگوں سے بارہا کہا کہ ’’غلامیٔ رسولؐ میں آجاؤ، بہانے بازیاں چھوڑ دو، جب حرمتِ رسولؐ پر حرف آئے تو کھڑے ہو جاؤ، ہم مذہب کے ٹھیکیدار تو نہیں مگر چوکیدار تو ہیں، ایک جلسے میں دورانِ خطابت علامہ خادم حسین رضوی کہنے لگے کہ ’’اگر رسول ﷲﷺ نے پوچھ لیا، او چودھری، او کونسلر، او ایم پی اے، او ایم این اے! اِس دین کیلئے میں نے پتھر کھائے، مٹی اُٹھائی، تلوار اُٹھا کر میدانوں میں گیا، اِس دین کی خاطر میرے نواسے نے گردن کٹوائی، اِس دین کے لئے میرے چچا نے جگر کلیجے نکلوائے مگر چودھری تیرے ہوتے ہوئے مساجد سے اسپیکر اُتارے گئے۔

اُس وقت تیری پاور کدھر تھی؟ اُس دن اگر رسول ﷲﷺ نے پوچھ لیا کہ بتا او مالدارہ، صدیقِ اکبرؓ نے تو سارا مال دین کو دے دیا تو نے کبھی زکٰوۃ بھی نہ دی، دین سے غداریاں کیوں کرتے ہو؟ دین کو آپ لوگوں نے دیا کیا ہے؟

یہ بوڑھے فلمیں دیکھتے ہیں، حقے پیتے ہیں سارا سارا دن,اگر حضور ؐنے قیامت کے روز حضرت عمر بن معدی کرب کو بلا لیا کہ یہ میرا بوڑھا صحابیؓ مدینے سے چل کر یرموک گیا، تُو زیادہ بوڑھا تھا کہ میری عزت کی خاطر مال روڈ تک نہ گیا؟

اگر کسی نے کہا کہ میرے بچے چھوٹے تھے تو رسولؐ نے امام حسینؓ کے بیٹوں کو پیش کر دیا کہ اِن سے بھی چھوٹے تھے؟ تم اپنے بچوں کی جوانیاں بچاتے ہو، تیرے پتر علی اکبرؓ سے زیادہ خوبصورت تھے؟

آج حالت یہ ہے کہ چھوٹے بڑے پتر بھی بچاؤ، مال بھی بچاؤتو دین کدھر گیا، اگر کسی نے کہا کہ میں چاچے کی خاطر نہیں گیا تو رسولؐ پاک نے اپنے چچا کو سامنے لے آنا ہے، اپنے بوڑھے صحابہ ؓ کو لے آنا ہے‘‘۔

خادم رضوی ایسے حوالے دے کر ہی لوگوں کو غلامیٔ رسولؐ کی دعوت دیتے رہے، اُنہوں نے نوجوان نسل کو جو پیغام دیا ہے اُن کا مشن جاری رہے گا۔ شعیب بن عزیز یاد آ گئے کہ

دوستی کا دعویٰ کیا، عاشقی سے کیا مطلب

میں ترے فقیروں میں، میں ترے غلاموں میں

What's Your Reaction?

like
0
dislike
0
love
0
funny
0
angry
0
sad
0
wow
0