یورپ جنگ کے دہانے پر

اسلم اعوان

یورپ جنگ کے دہانے پر

کچھ عرصہ سے فرانس میں پیغمبر اسلام کے توہین آمیز خاکو ں کی اشاعت کے ذریعے وہاں کی پیش پا افتادہ مسلمان آبادیوں میں جس طرح کا اضطراب ابھارا گیا اس سے فرانسیسی قوم کے مسائل تو حل نہیں ہو سکیں گے البتہ عالمی سطح پہ بین المذاہب تفریق کی لکیریں مزید گہری ہو جائیں گی،بظاہر یہ آزادی اظہار کا مسلہ بھی نہیں،جیسا کہ عام طور پر فرض کیا جاتا ہے بلکہ اس کی جڑیں ہمیں فرانس کے اندر پنپنے والے سماجی و تہذیبی تغیرات اور معاشی بحران میں ملتی ہیں۔

دوسری جنگ عظیم کے بعد 1960 کی دہائی میں فرانس نے صدر چارلس ڈیگال 19591968))کی قیادت میں بیمثال ترقی کی،جس نے مملکت کے انتظامی اور معاشی ڈھانچہ کی تعمیرنو کے علاوہ قومی شناخت کی ازسر تشکیل کر کے روایتی سیاسی تمدن کے سارے مفاہیم بدل ڈالے تھے۔

تاہم فرانسیسی سماج کی روح کے اندر موجزن مزاحمت کی آبائی جبلتیں اور وہ انقلابی رجحانات معدوم نہ ہو سکے جن کی آبیاری والٹیر کی زدفہمی اور بعد ازاں نپولین کی بیباک فعالیت نے کی تھی،اس لئے سیاسی،معاشی اور ثقافتی ارتقاء کے باوجود وہاں وقفہ وقفہ سے فسادات سر اٹھا لیتے ہیں،جنہیں مناسب طریقہ سے مینیج کرنے کی صلاحیت،انتظامی اہلکاروں میں،اب گھٹتی جا رہی ہے یا پھر وہاں کی حکمراں اشرافیہ کے سیاسی مفادات انہیں ایک خاص رنگ دینے پہ اکساتے ہیں۔

فرانس میں 1981 کی مہیب بدامنی کا آغاز سرمایہ کاری اور صارفیت میں عدم توازن،امریکہ کے نفسیاتی غلبہ کا استرداد اور روایتی اداروں کے خلاف طلبہ کے مظاہروں سے ہوا تھا،ایک سال سے زیادہ عرصہ تک جاری رہنے والے ان مظاہروں کے دوران ناراض طلباء کے یونیورسٹی انتظامیہ اور پولیس سے متعدد بار تصادم ہوئے،ان فسادات کی اساس بھی مذہبی نہیں اقتصادی تھی۔

اگرچہ اکیسویں صدی میں صورت حالات میں کئی نئے عوامل بھی شامل ہو گئے ہیں لیکن مغرب لادین معاشروں میں آج بھی فسادات کا بنیادی محرک اقتصادی مسائل ہی بنتے ہیں۔ تاہم پہلی بار اکتوبر 2005 کے فسادات اور مشتبہ جہادیوں کی گرفتاریوں کی مہم کے ساتھ ہی اسلام کے سوال کو فرانسیسی خدشات کا جُز بنایا گیا تھا اگرچہ اس وقت بھی مغربی میڈیا کے اجتماعی شعور نے شورش کو وجوہ ،سہولیات سے محروم مخلوط آبادیوں کی سماجی و معاشی مشکلات اور سیاسی محرومیوں کو بتایا تھا لیکن ریاستی مقتدرہ نے مخصوص حکمت عملی کے تحت فرانسیسی معاشرے میں ان فسادات کو اسلامیت سے منسلک خطرات کے ساتھ جوڑ کے سیاسی رنگ دینے کی کوشش کی تھی۔

امر واقعہ بھی یہی تھا کہ اُس وقت جن پرتشدد مظاہروں کو ڈرامائی انداز میں پولیس کے ساتھ جھڑپوں میں بدلا گیا تھا،اصل میں وہ ہائیڈرو کاربن ٹیکس کے نفاذ اور فرانسیسی حکومت کی ماحولیاتی پالیسیوں کا ردعمل تھے،جس سے ایندھن،خاص طور پر ڈیزل کی قیمت میں غیر معمولی اضافہ ہو گیا تھا۔اسی طرح 17 نومبر 2018 کو فرانس کے طول و ارض میں اچانک بھڑک اٹھنے والے جن فسادات نے تین لاکھ سے زیادہ لوگوں کو متاثر کیا تھا اور ہنگاموں کا مشاہدہ کرنے والے صحافی جان لیک فیلڈ نے جنہیں بغاوت قرار دیا تھا،وہ بھی معاشی مشکلات کی کوکھ سے پھوٹے تھے،اس لئے مظاہرین نے مستقل ناکہ بندیاں تعمیر کر کے سڑکیں مسدود کردیں اور دس سے زائد فیول ڈپووں بند کرا دیئے،ان پُرتشددکاروائیوں کی ابتداء پیرس میں شہری مزدوروں نے قلعہ باسٹیل پر قبضہ کے ذریعے کی تھی لیکن جب کسانوں نے یہ سنا تو وہ بھی دیہی علاقوں میں بغاوت پہ کمربستہ ہو گئے۔

اسی جدلیات کے دوران غریبوں کے رہائشی علاقوں میں پولیس ہراسانی کے بڑھتے ہوئے واقعات نے نوجوانوں میں مزید اشتعال پیدا کیا جس سے پورے فرانس میں تین ہفتوں تک پرتشدد ہنگامے گونجتے رہے۔فسادیوں نے 8000 سے زیادہ گاڑیاں جلا ڈالیں،7602 سے زیادہ افراد گرفتار کر لئے گئے تھے،لیکن اسکے باوجود سچ یہی تھا کہ یہ سب اسلامک فوبیاکی تھکن تھی نہ کہ اسلامی بنیاد پرستی کا وبال۔

میڈیا میں اس پیچیدہ تشدد کی وضاحت یوں کی گئی کہ یہ نوجوان مسلمانوں کا فرقہ وارنہ بنیاد پرستی پہ مبنی رد عمل نہیں بلکہ سماجی بے انصافی کے خلاف بڑھتا ہوا انحراف ہے۔رائٹر کے ٹام ہنگان نے سوال اٹھایا تھا کہ ہم یہ کیسے لکھیں کہ وہ مسلمان ہیں؟ "مسلم فسادات ہیں" یا "فرانسیسی انتفاضہ" جیسے جملوں کو درست ثابت کرنے کیلئے حقائق کہاں سے لائیں؟کچھ لوگ یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہمیں معلوم ہے کہ یہ فسادات "مسلم محلوں" میں ہوئے لیکن جب صحافی ان آبادیوں میں جاتے ہیں تو انھیں وہاں ایسے علاقے ملتے ہیں جو کثیر النسلی ، کثیر الثقافتی ، کثیر اللسانی اور کثیر الجہتی ہیں۔

سڑکوں پر نظر آنے والے چہروں میں،عرب (زیادہ تر شمالی افریقہ سے) افریقہ اور کیریبین کے سیاہ فام ،برصغیر پاک و ہند سے تعلق رکھنے والے (اکثر سری لنکن) اور فرانس کے غریب گورے بھی شامل ہیں۔بلاشبہ ان ہنگاموں میں ایسے مسلمان ہوں گے جو مساجد میں نماز پڑھنے جاتے ہوں گے لیکن ان میں گرجا گھروں کو جانے والے عیسائی بھی ملوث دیکھائی دیتے ہیں ،جن میں افریقی انجیلی بشارت کی بڑھتی ہوئی تعداد نمایاں نظر آتی ہے بلکہ پیرس کے مضافاتی علاقوں میں ہمیں غریب یہودی بھی سرگرم ملتے ہیں جو شمالی افریقہ سے نقل مکانی کر کے فرانس چلے آئے تھے بلکہ یہ بھی مت بھولیں کہ ان فسادات میں بہت سارے ملحد بھی کارفرما تھے،جنہیں مذہبی تعصبات سے کوئی سروکار نہیں تھا ان کے پیش نظر معاشی تقاضے تھے۔

2005 میں جب نکولس سرکوزی یہ کہانی بیچ رہے تھے کہ فسادات کے پیچھے مسلمان بنیاد پرست کارفرما ہیں تو اسے عوام کی اکثریت نے خریدنے سے انکار کر دیا تھا۔عام طور پہ فرانسیسی دانشوروں کا خیال یہی تھا کہ فسادات کے خطرات کو کم کرنے کی کلید مسلمانوں اور مزدور طبقات کے محلوں کے خلاف ہونے والے ریاستی تشدد کو روکنا میں مضمر ہے،انہیں قدم قدم پہ قانونی رکاوٹوں،شناخت کرانے کی اذیت اور ٹیکسوں سے لتاڑنے کی بجائے وہاں کے رہائشیوں کو سیاسی امور میں شراکت کو فروغ دینا چاہیے تھا لیکن بدقسمتی سے سیاسی طور پر ان آبادیوں کو منظم کرنے کی کوششیں ہمیشہ ناکام رہیں۔


لیکن اب فرانسیسی صدر میکروں کی حکومت نے ان سماجی و اقتصادی بے انصافیوں کے خلاف ابھرنے والے عمومی ردعمل کو مسلمانوں کے عقائد اور نظریاتی احساسات کے ساتھ جوڑنے کی خاطر پوری قوم کو صف آراء کرنے کی ٹھان لی ہے،جس کے ردعمل میں نئے عالمی منظرنامہ پہ ابھرتے ہوئے ترک صدر رجب طیب اردوان نے میکرون کے "بحران میں اسلام" جیسے بیانات کو اشتعال انگیزی قرار دیکر فرانس سے اپنا سفیر واپس بلا لیا،بلاشبہ یہ غیر معمولی واقعہ یوروپ کو جنگ کے دہانے تک پہنچانے کا وسیلہ بن سکتا ہے۔

مسلم ممالک میں فرانسیسی مصنوعات کے بائیکاٹ کی مہم کے ساتھ ہیی مسلم ریاستوں پہ فرانس کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کرنے کے لئے دباو بڑھ رہا ہے،معاشی بائیکاٹ کی مہم بہت جلد سیاسی و سماجی تصادم میں ڈھل سکتی ہے۔اب تازہ شورش میں بھی خاصی بڑی تعداد میں عام لوگ صدر میکرون کی متنازعہ پالیسیوں اور بڑھتی ہوئی معاشی زبوں حالی کے خلاف احتجاج کے طور پر ہفتے کے آخر میں سڑکوں پر نکل آتے ہیں،لیکن کمال ہوشیاری کے ساتھ فرانسیسی حکومت اس احتجاج کا رخ پیغمبر اسلام کے توہین آمیز خاکوں کے ذریعے مسلمانوں کے فطری ردعمل کی طرف موڑنے میں سرگرداں ہے ۔

آزادی اظہار کے ابہاماتکی آڑ لیکر نہایت فریب کارانہ طریقوں سے دنیا کے عظیم ترین پیغمبر کی توہین کے ذریعے اربوں مسلمانوں کی دل شکنی کی دانستہ کوشش دنیا انسانیت کو کسی عالمی جنگ کی طرف دھکیل سکتی ہے ۔ترکی کے مذہبی امور کے سربراہ علی ارباس نے درست کہا ہے کہ فرانس میں عوامی عمارتوں پر حضرت محمدﷺ کو نشانہ بنانے والے کارٹونوں کو آویزاں کرنے روش اس امر کی غماض ہے کہ مغربی سماج میں بڑھتے ہوئے اسلامو فوبیا کو ریاستی حمایت مل گئی ہے،انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ مسلمانوں کے احساسات کو مجروح کرنے جیسے اقدامات کی مزاحمت کریں ۔

فرانسیسی مصنوعات کے بائیکاٹ کی نسبت چلنے والا ہیش ٹیگ ٹرینڈ دیگر مسلم ممالک کے علاوہ سعودی عرب میں بھی سوشل میڈیا پر پہلے درجے پہ پہنچ گیا ہے،معاشی بائیکاٹ کی اس پرجوش مہم کو اگر شام،عراق،فلسطین اور لیبیا کی سلگتی ہوئی مزاحمتی تحریکوں سے توانائی ملی تو مسلم مملکتوں کے لئے یوروپ کے ساتھ حتمی تصادم کو ٹالنا ناممکن ہو جائے گا۔اب تک اسلامی تحریکوں کی آڑ میں بلاد مسلم کے خلاف امریکی کی مہم جوئی کے دوران مسلم مملکتیں امریکی مہم کا حصہ بنیں یا پھر غیر جانبدار رہیں لیکن اب اگر ترکی کو ناموس پیغمبر کے دفاع کی خاطر مغرب کے ساتھ جنگ لڑنا پڑی تو اس دنیا کی کوئی بھی مسلم مملکت اس تنازعہ سے الگ نہیں رہ پائے گی،اگر کسی نے پس و پیش کی جسارت کی تو امت کا سیلاب انہیں بہا لے جائے گا۔

بلاشبہ مغرب کی دم توڑتی تہذیب اورمعدوم ہوتی نسلیں اب جنگ کی متقاضی ہیں کیونکہ سفید فام نسلیں یونہی آسانی کے ساتھ اپنے مذہبی تعصب اور تہذیبی وراثت کو ایشیا اور افریقہ سے نقل مکانی کر کے آنے والے تارکین وطن کی اولادوں کے حوالے نہیں کرین گی لیکن مشیعت ایزدی سے روح محمدﷺ اس بکھری ہوئی امت کی وحدت کا وسیلہ بن سکتی ہے۔

What's Your Reaction?

like
0
dislike
0
love
0
funny
0
angry
0
sad
0
wow
0